براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
18 ذوالحجة 1445
ulamaehin.in website logo
سید العلماء سید حسین نقوی علیین مکان

سید العلماء سید حسین نقوی علیین مکان

syedul ulama syed hussain naqvi

ولادت
14 ربیع الثانی 1211 ه.ق
لکھنو
وفات
17 صفر 1273 ه.ق
لکهنو
والد کا نام : آیت اللہ العظمی سید دلدار علی
تدفین کی جگہ : غفران مآب امام باڑہ
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
وعظ و درس قرآن مجید
شوق خدمت دین
واقعات
تلامذہ
تصنیفات
وفات
تصاویر

سوانح حیات

14 ربیع الثانی 1211 ھ کو جناب آیت اللہ العظمی سید دلدار علی صاحب کے گھر سید العلما مولانا سید حسین صاحب کی ولادت ہوئی ۔ خورشید کمال مادہ تاریخ ہے۔

جناب غفران مآب نے ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ امام حسین علیہ السلام فرما رہے ہیں تم نے اپنی اولاد نرینہ کے نام رکھنے میں پنجتن کا سلسلہ کیوں موقوف کردیا ؟ آپ نے عرض کیا اب میں ضعیف ہوگیا ہوں اس لئے آخری فرزند کا نام آخری امام ؑ کے نام پر رکھا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ایک فرزند اور ہوگا اس کا نام میرے نام پر رکھنا۔

اس لئے نو مولود فرزند کا نام حسین رکھا ۔ عرف میں میرن صاحب قرار پایا ۔

بچپنے میں کھیل کود سے دلچسپی نہ تھی۔ چار پانچ بھائی پڑھنے لکھنے والے ، اندر باہر لوگ احترام و عزت سے پیش آنے والے نظر آتے تھے۔ لہذا اخلاق و کردار میں طبعی میلان اور ماحول نے دل کشی پیدا کردی۔

ابتدائی تعلیم کے بعد والد بزرگوار سے پڑھنے لگے ۔ جب ان کی طبیعت ناساز ہوئی تو سلطان العلما سے درس لیا اور جب ان کا مزاج رو بصحت ہو گیا تو پھر ان سے سبق شروع کردیے۔ عماد الاسلام شرح اربعین ، بہاء الدین عاملی، کافی  (اصول و فروع) منتقی الجمان ، غفران مآب سے پڑھی اور سلطان العلما سے سلم العلوم ، شرح حمد اللہ سیف ماسح کا درس لیا۔

دونوں بزرگوں نے اجازہ دیا۔

مفتی محمد عباس صاحب نے منطق و فلسفہ ، ہیئت و ہندسہ ، تجوید و ادب ، علم الکلام ، اصول فقہ و فقہ میں یکتای روزگار مانا ہے ۔

ذہانت و ذکاوت شوق و محنت کی بدولت سترہ برس کی عمر میں تجزی فی الاجتہاد پر رسالہ لکھا ، دوسرا مقالہ حکم ظن در رکعتین اولیین ، تحریر کیا مگر شرم کی وجہ سے والد سے اس کا اظہار نہ کیا۔ جناب غفران مآب نے فرمایا کہ اجازہ کے لئے یاد دہانی کرانا، اجازہ لکھ دوں گا عرض کیا کہ کسی وقت میری تحریر بھی ملاحظہ فرما لیجئے ، جناب نے درخواست منظور فرمالی لیکن ناسازی مزاج کی بنا پر سلطان العلما کو حکم دیا کہ رسالے کو دعکھ کر اپنی رائے سے مطلع کرو، مولانا سید محمد صاحب نے تعمیل حکم فرمائی ، خود مولانا دلدار علی صاحب نے بھی نظر ڈالی اور فرمایا : ماہرانہ باتیں لکھیں۔ مبتدیانہ کمزوریاں نہیں ہیں۔ اس کے بعد اجازہ دے دیا ۔

جامعیت تحریر و تقریر کا عالم یہ تھا کہ بحث سبق کے درمیان برجستہ کہی بات آخر تک اپنا وزن ظاہر کرتی رہتی ، استفتا کے جواب میں جو جملہ لکھ دیا وہ مسئلے کے تمام پہلووں کو گھیر لیتا تھا، عراق و ایران کے فقہی ماحول اور اصولی فضا کے رہنے والے اس دراکی پر حیران ہوجاتے تھے ۔

لوگوں کی رجوع ، عوام کی محبت ، طلبا کا ہجوم ، سائلوں کا مجمع ، افاضل کی گرویدگی کا عالم دیدنی ہوتا تھا۔ لکھنو کوثانی نجف بنا دیا تھا ۔ عرب و عجم سے مراسلت تھی ، بادشاہ بھی تعمیل حکم کو شرف جانتے تھے ۔

بادشاہ ثریا جاہ مصلح الدین ابو المظفر محمد امجد علی شاہ جنت مکان نے مولانا ہی کے اشارے سے مدرسہ سلطانیہ قائم کیا ۔

’’حاوی علوم دین ، حامی سادات ، مومنین، حافظ احکام اللہ، مجتہد العصر ، سید العلما ‘‘ یہ مہر کندہ کرا کے نذر کی اور سرکاری طور پر مولانا کو انھی القاب سے یاد کرنے کا فرمان جاری ہو گیا۔

سلطان العلما مولانا سید محمد صاحب نے شرعی احکام کے نفاذ کی جو مہم شروع کی تھی ، امجد علی شاہ نے اسے قبول کیا ۔ شریعت کا نفاذ ہوا اور سلطان العلما کو عدلیہ و انتظامیہ کی نگرانی حاصل ہوئی ، سید العلما مولانا سید حسین صاحب کو نگران تعلیم کا غیر رسمی منصب ملا اور وہ پورے ملک میں دینی سربراہ بن کر ابھرے ۔

بادشاہ سکندر جاہ، ابولمنصور ناصر الدین حضرت سلطان عالم محمد واجد علی شاہ بہادر بھی ہمیشہ خلوص و عقیدت و اخلاص و ارادت سے پیش آتے رہے۔

سلطان العلما سید محمد صاحب تمام معاملات میں چھوٹے بھائی کی رائے کو مقدم سمجھتے رہے۔ موصوف نے ممتاز العلما سید محمد تقی صاحب کے اجازے میں لکھا ہے:

السميدع الالمعي و الحبر اللوذعي، ذی النظر الصائب و الذهن الثاقب، عالى الكعب في الفنون العقليه، طویل الباع في العلوم النقلية، الراتع في رياض الاجتهاد و الافاده الكارع من احادیث الجد و السادة، سیدالعلماء العالمین سند الفقهاء الكاملين عين الانسان و انسان العين اخي وضوی و مهجة قلبي السيد حسين لازال قرير العين محفوظا عن اصابة العين».

 

 

اعلام و مجتہدین عظام  سے برابر کے تعلقات استوار تھے ۔ شیخ الشیوخ محمد حسن النجفی مولف جواہر الکلام کے مفصل و طویل خط چھپ چکے ہیں ۔ ہزاروں مقلدوں ، حاجت مندوں ، شاگردوں کے خطوط کا انبار ملنے والوں کا مجمع، طلبا کا ہجوم ، اہل حاجت کا جم غفیر ، وعظ و تذکیر ، درس و تدریس، خطوں کے جواب ، کتابوں کی تصنیف ، مومنین کی عیادت ، محتاج مسکین ، یتیم اور بیوگان کی خبر گیری۔

 

 

تقسیم اوقات

آخر شب میں مسجد میں آنا، نوافل و فرائض و تعقیبات کے  بعد واپسی اور زنانخانے میں جانا، وہاں تصنیف و تالیف کا کام کرنا ، کچھ ضروری کاغذات دیکھنا ۔

دس بجے تقریبا مردانے مکان میں تشریف آوری ، پہلے درس دینا، درس میں اکثر افاضل علما شریک ہوتے تھے ۔ درس کے بعد اہل حاجت کی عرضیوں پر حکم ان کو حسب امکان داد و دہش ، فتوی مانگنے والوں کو فتوے دینا ۔

بعد زوال مسجد میں نماز ظہرین پڑھانا اور تعقیبات عصر کے بعد برادر بزرگ سلطان العلما کی خدمت میں حاضری کے بعد گھر واپسی ، مغرب تک درس اور گھر پر نماز جماعت ۔

مغربین کی نماز کے بعد احباب و مسترشدین سے بات چیت اور جواب طلب خطوں کے جواب و فتوی ، کبھی اس نشست کا سلسلہ نصف شب تک کھینچ جاتا تھا۔

 

 

اولاد

سید علی حسین (حکومت ہند اودھ نے زین العابدین خطاب دیا تھا ، علوم طبیہ میں کامل تھے ، 1264 ھ میں رحلت کی )

ممتاز العلما سید محمد تقی جنت مآب

زبدۃ العلما سید محمد نقی

مولانا سید عبد الجواد (اودھ کی ریاست میں پیش نماز تھے )

 

 

 

 

حلیہ

میانہ قد، نحیف و لاغر ، کتابی چہرہ ، نور ساطع، ریش مبارک گھنی ہوئی تھی ۔

 

اخلاق

شہرت کی زیادتی سے عاجزی و انکساری بڑھتی گئی، بیوہ اور یتیموں پر مہربان ، طلبہ اور زائرین پر شفیق تھے۔ قبول دعا اور زبان کی تاثیر کا یہ عالم ۔

مزید دیکھیں

وعظ و درس قرآن مجید

مولانا سید حسین صاحب کا دستور تھا جمعہ ، دوشنبہ ، پنجشنبہ اور رمضان المبارک میں روزانہ درس قرآن مجید بیان عقائد، تعلیم اخلاق دیتے ، تقریر میں نکات و حقائق کا بحر زخار ٹھاٹھیں مارتا تھا۔ دور دور سے لوگ وعظ سننے آتے اور زبردست اجتماع ہوتا تھا۔ حاضرین گوش دل سے سنتے اور دل و جان سے یاد رکھتے تھے ۔

مصروفیات کے اس بحران اور وقت کی اس تنگی میں عشق قرآن میں ایک عرصے تک پابندی قرآن مجید لکھتے رہے ۔ کامل قرآن مجید جناب سید ابراہیم صاحب کے پاس تھا جس کا ترقیمہ یہ ہے :

قد وقع الفراغ من كتابة القرآن المجيد و الفرقان الحميد بتأیید الله سبحانه و حسن توفيقه على يد اقل الخليقة بل لاشيء في الحقيقة اقل العباد عملا و اكثرهم زللا، ابن العلامة المرحوم الساكن في جوار رحمة ربه الكريم السيد دلدار على رفع الله و درجاته في جنات النعيم، السيد حسین صانه عن كل شي و رزقه شفاعة سيد البشر رسول الثقلين صلی الله علیه وآله. و كان ذلك يوم الاحد خمس بقين من شهر جمادى الآخرة سنة ست و اربعین بعد الف و مآتين من الهجرة النبوية على الصادع بها الف تسلیم و تحیه

 

 

مزید دیکھیں

شوق خدمت دین

مولانا سید حسین صاحب علیین مکان نے مدارس کی تاسیس ، مساجد کی تعمیر، دور دراز مساجد میں آئمہ و واعظین کا تقرر کیا ، کتابیں چھپوائیں، علما و طلبا کی مدد کی ، متعدد حضرات کے وظیفے مقرر کرائے جن میں ایک مرزا غالب دہلوی بھی ہیں ۔

برصغیر کے علاوہ مراکز عراق ، نجف و کربلا تک پہنچے ، وہاں کے علما و طلبا کی خدمت کی اور روضوں کی تعمیر کرائی ۔

 

 

مشاہد مشرفہ کی تعمیر

جناب سید العلما علیین مکان نے نجف میں نہر آصف الدولہ کی اصلاح و تعمیر کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ اور روضہ حضرت عباس کے نقرئی دروازوں کی تجدید اور ایوان طلا کی تعمیر کے لئے تیس ہزار روپے ، اور سامرے میں روضہ عسکریین کی چاردیواری ، گنبد پر طلا کاری اور ایک مسافرخانے کی تعمیر کروائی اور نہر حسینی کربلا کی کھدائی کے لئے ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ حضرت حر کی قبر پر عمارت بنوائی ۔

یہ سب روپیہ آیت اللہ شیخ محمد حسن صاحب جواہر الکلام اور آیت اللہ سید ابراہیم صاحب مصنف ضوابط الاصول کو بھیجا ۔ اس سلسلے میں خط ظل ممدود میں چھپ چکے ہیں ۔

 

دو ڈھائی لاکھ روپے یہ اور حرمین کی خدمت کے لئے ایک ہزار ہائے روپے محمد علی شاہ ، بادشاہ اودھ اور رؤسا اور خود اپنے پاس سے بھجوائے ۔

محمد علی شاہ بادشاہ کے بعد امجد علی شاہ تخت نشین ہوئے تو وہ بھی سید العلما کا بصد خلوص احترام کرتے تھے مگر آپ نے کبھی توجہ نہیں کی ۔ امرا فرماں بردار تھے  مگر کبھی کہیں نہ جاتے تھے ۔ لوگوں کی سفارش کے لئے جانا ہوا تو بصد خوشی گئے ۔

 

تعمیر روضہ مسلم و ہانی

کوفے میں حضرت مسلم و ہانی کے مزار ایک مدت سے بے توجہی کا نشانہ تھے ، جناب سید العلما نے پندرہ ہزار روپیہ بھجوا کر دونوں روضوں کی تعمیر ہوئی ۔

 

مزید دیکھیں

واقعات

بارش رحمت

جناب مفتی محمد عباس صاحب نے اوراق الذہب میں لکھا ہے :

ایک سال بارش نہ ہوئی ، موسم گذر گیا لوگ رو روکر دعائیں مانگتے تھے، مگر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا۔ جناب سید العلما بھی استسقا کے لئے صحرا میں آئے ۔ جماعت ختم کی ہی تھی ، اور عبا کو جھٹکا بھی نہیں دیا تھا کہ گھٹا آئی اور خوب بارش ہوئی ، جل تھل بھر گئے گلی کوچے پانی پانی ہوگئے۔

 

 

صاحب نظر جوہری

لکھنو میں ایک شخص موتی بیچتے بیچتے قبلہ و کعبہ کے یہاں حاضر ہوا ۔ جناب نے موتی دیکھے اور خادم سے پانی طلب کیا اور فرمایا یہ موتی اس میں ڈال دینا ، سودا گر گھبرا گیا ، اپنا صندوق بند کرنے لگا تو جناب نے فرمایا : تم شہر کو لوٹ چکے اب شہر میں نہ آنا ۔ معلوم ہوا سوداگر نے مصری کے موتی بنائے تھے ۔

 

غربا پر شفقت

غربا پر لطف و کرم آپ کی فطرت کا خاصہ تھا ۔ چنانچہ ایک دن آپ تعقیبات کے بعد ہاتھ اٹھائے ، دعا کر رہے تھے ، ایک سائل آیا اور غصے میں آپ کے منہ کے قریب ہاتھ لاکر چلاہا، میں غریب بھوکا مرا جاتا ہوں ، آپ ہیں کہ دعا ختم نہیں کرتے ۔

حاضرین نے اسے نکالنا چاہا مگر آپ نے روکا اور سائل کی حاجت پوری کرتے ہوئے اس سے معذرت کی ۔

 

ایک مرتبہ دو آدمیوں نے گلے کی ردا کھینچ لی کہ دم گھتنے لگا۔ جناب زبدۃ العلما نے ان کو ڈانٹا تو آپ ناراض ہوئے اور ان دونوں سے کہا : واقعاً تمہارے کام میں تاخیر ہوئی معاف کردو، اور فرزند سے کئی دن تک بات نہ کی ۔

 

ایک جامع واقعہ

اوراق الذہب عربی ادب و سوانح کی نفیس ترین کتاب ہے ۔ اس میں مولانا سید حسین صاحب کی سیرت بڑے جذب شوق سے قلم بند کی ہے ۔ مولانا کے زہد و اتقا ، دنیا سے کنارہ کشی ، صبر و عاجزی ، عشق و عبادت کی ایک نفیس تصویر اس واقعے میں نظر آتی ہے ۔ مفتی محمد عباس صاحب ناقل ہیں :

سید العلما بیمار ہوئے ، مرض سخت ہوگیا ۔ شعبان کے آخر میں کچھ افاقہ ہوا ہی تھا کہ ماہ مبارک آگیا ، اور جناب نے روزے شروع کردیئے ، میں (مفتی صاحب ) نے اور اطبا نے منع کیا لیکن وہ شوق ثواب و ذوق عبادت میں روزہ  رکھنےسے باز نہ آئے ۔ کمزوری بڑھی تو انھوں نے تاویلیں کرنا شروع کردیں ، کوشش کی کہ لوگ روزے اور اعمال و سنن سے مانع نہ ہوں ۔ بخار دوبارہ آنے لگا۔ روزے ، نمازیں، وعظ کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک روز منبر پر لرزہ آیا اور بہت نڈھال ہوگئے ۔ منبر سے اترے گھر آئے کچھ دیر بعد ایک جنازہ آگیا کہ نماز پڑھا دیجئے ۔ قبلہ اس قدر معذور تھے کہ عذر کردیا ۔ وہ تھے دکھی اور صاحب غرض فرمانے لگے ابھی کسی رئیس کا جنازہ ہوتا تو عذر نہ کرتے ۔ جواب سنا ، صبر کیا اور اسی اذیت و تکلیف میں باہر آئے نماز پڑھائی ۔

رمضان یونہی گذرا ، ایک دن بخار ہوا ، ایک دن نہ ہوا ، مولانا بہر حال روزے رکھتے چلے گئے ۔ آخری دن تھا کہ صحیفہ کاملہ سے دعا وداع ماہ رمضان پڑھ رہے تھے اور رو رہے تھے ۔ مفتی صاحب نے پوچھا حضور! ہمیشہ رمضان میں یہ اعمال بجا لاتے ہیں مگر جو حالت اس سال ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ فرمایا : مجھے یہ آخری رمضان نظر آتا ہے ۔ میری زندگی تمام ہو چکی ہے ۔

 

مزید دیکھیں

تلامذہ

مفتی محمد عباس، (شاگرد خاص سیدالعلماء و مؤلف اوراق الذهب، سوانح سیدالعلماء و نیز ظل ممدود، مجموعه مکاتیب سیدالعلماء)

ممتازالعلماء سید محمدتقی

علامه کنتوری غلام حسنین،

زبدة العلماء سید نقی؛

میر حامد حسین فردوس مآب

عمدة العلماء سید هادی

مفتی مظفر حسین نانوتوی

قائمة الدین میرزا محمدعلی

مفتی مقبول حسین بدایونی

مولانا نیازحسن برستی حیدرآبادی

مولانا شیخ تفضل حسین تعلقه دار فتح پور بسوان

مولانا شیخ علی حسین بدایونی

مولانا شیخ على اطهر

مولانا سید حسین مرعشی

مولانا سید علی نقی

وهاج میرزا حسن عظیم آبادی (وی بر اثر تعلیمات کاظم رشتی، به شیخه گرویده بود (وفات اله آباد ۱۲۶۰ ه ق)؛

مولانا سید محمدبن سیدباقر شاه بخاری؛

مولانا اولاد حسین

مولانا حکیم میرزا غازی

مولانا حافظ انورعلی

مولانا قاری جعفر على جارچوی

مولانا سید مهدی شاه کشمیری عظیم آبادی

مولانا میرزا محمد بخاری

مولانا سید علی حسن جائسی

مولانا سید محمدحسین

مولانا میرزا محمد هادی صلاح (مصنف خلاصة المصائب)

حکیم سید اکبر شاہ کشمیری

شفاء الدوله

ذکاءالملک حکیم سید افضل علیخان بهادر مدبر جنگ

مزید دیکھیں

تصنیفات

۱- تفسير سورة الحمد (به طور مفصل)

۲- تفسير سورة البقره. ناتمام)

۳- تفسير سورة هل اتى على الانسان

۴- تفسير سورة التوحید

۵- تفسیر آیه کریمه کنتم خير أمة» (رد اعتراضات رازی)

۶- حاشیه بر تفسیر (چاپ نشده)

۷- رساله در فن تجوید

۸- رساله تجزي في الاجتهاد

۹- رساله مسأله شک در رکعتین اوليین

۱۰. مناهج التدقيق و معارج از اوقات نماز تا احکام سلام (چاپ شده). وجیز رائق احکام طهارت فقه (چاپ شده)

۱۱- روضة الأحكام (فارسی، فقه، مقصد اول شامل مقدمه و طهارت و صلوة و صوم و مقصد چهارم، باب اول شامل میراث به چاپ رسیده است)

۱۲- رساله مبسوط في الميراث (عربی، فقه)

۱۳. حديقه سلطانیه در مسایل ایمانیه (برحسب فرمایش امجد علیشاه پادشاه)

۱۴- اصول دین و احکام تا حج (باب ششم، مقصد ثانی، در بیان زیارات ، با مقدمه مفصل و باب اول و دوم شامل توحید، عدل، نبوت و باب چهارم شامل امامت در دو جلد چاپ شده است)

۱۵- وسيلة النجاة، اصول دین تا آخر بحث نبوت (فارسی، عقاید، چاپ نشده)

۱۶رساله اصالة الطهارة، با تقریظ سید ابراهیم حائری (فقه، عربی، چاپ نشده است)

۱۷- رسالة منع از بيع مایعات نجس و متنجس (فارسی، فقه، چاپ نشده)

۱۸- طرد المعاندين جواز لعن بر اهل نفاق (فارسی، چاپی)

۱۹- حاشیه شرح كبير (ریاض المسائل)، کتاب الصوم، المبه، الصدقه،

۲۰- تعليقات على شرح هداية الحكمة ملاصدرا (عربی، فلسفه، غیرچاپی)

۲۱- رساله تبهر العقول في تحقيق النسبة بين الحقيقة و المجاز المنقول (عربی، اصول فقه، غیر چاپی)

۲۲- مجالس مفجعه

۲۳- فوايد في تنقيح العقاید، افادات حسینیه، رد اقوال شیخ احمد احسایی و کاظم رشتی

مزید دیکھیں

وفات

محنت و ریاضت اور ضعف تو اپنی جگہ ، اصل میں وقت آچکا تھا لہذا شب شنبہ 17 صفر 1273 کودنیا سے رخصت ہوئے ۔

صبح کو شہر میں کہرام بپا تھا ۔ میرن صاحب رحلت کرگئے ۔ چھوٹے قبلہ و کعبہ مرحوم ہوگئے ۔ سید العلما کو اب علیین مکان کہا جائے ۔

دریائے گومتی پر غسل ہوا ۔ مجمع کی زیادتی تھی ، لہذا آصف الدولہ کے امام باڑے میں نماز ہوئی ، کہتے ہیں کہ لکھنو میں اتنے بڑے اجتماع سے اب تک کوئی جنازہ نہ اٹھا تھا ۔ جناب سلطان العلما غم سے نڈھال تھے ۔ آپ ہی نے نماز پڑھائی اور امام باڑہ غفران مآب میں اندرونی دالان میں جناب غفران مآب کے پائیں پا مغربی حجرے میں دفن کیا ۔ قبر پر مرمر کی سل جس پر سونے کا کام ، قبر کے اوپر چوب صندل کا جنگلہ لگا دیا گیا ۔

لکھنو تو سوگوار ہوا ہی ، پورے ملک میں حسرت و غم کی فضا چھاگئی ۔ مرزا غالب نے کالپی کے رئیس انورالدولہ کو لکھا:

آپ کو معلوم ہوگا میرن صاحب نے انتقال کیا ۔ یہ چھوٹے بھائی تھے مجتہد العصر لکھنو کے ، نام ان کا سید حسین اور خطاب سید العلما ، نقش نگین میر حسین ابن علی ، میں نے ان کی رحلت کی ایک تاریخ پائی ، اس میں پانچ بڑھتے ہیں، یعنی 1278 ہوتے تھے ۔

حسین ابن علی آبروئے علم و عمل

کہ سید العلما نقش خاتمش بودی

نماند و ماندے اگر بودے پنج سال دگر

غم حسین علی سال ماتمش بودی

 

بے شمار شعرا نے مرثیے اور قطعات تاریخ لکھے ، جناب مفتی محمد عباس صاحب نے عربی و فارسی میں لاجواب قطعات لکھے ہیں ان میں ایک قطعہ ہے :

الدهر اقبل بالعوالي و انتضی

سیفا و ليس الحكم الاللقضا

لهفي على حبر علیم بارع

قدبات من مغض على جمر الفضا

هو سیدالعلماء مولانا الحسين

سليل آل المصطفى و المرتضی

ما زال كهفة للانام مواسيا

متعطفا متفجعة وممرضا

حتى اذا اصفرت انامله من

الحمى سابع عشر من صفر مضی

واليوم يوم وفاة مولانا الرضا

فبکت علیه عیون اخبار الرضا

 

 

مرزا غالب نے قطعہ تاریخ کے علاوہ ایک درد انگیز ترکیب بند فارسی میں لکھا ہے ۔

 

نواب خیرات علی خان نجم کے چار مصرعے ہیں:

هفده ز صفر، ثلث شب شنبه بود

مولای جهان به حق چو فرمود

وصال شد سال وفات باسنه ميلادش

ای نجم زوال دید خورشید کمال

 

اولاد

سید علی حسین (حکومت ہند اودھ نے زین العابدین خطاب دیا تھا ، علوم طبیہ میں کامل تھے ، 1264 ھ میں رحلت کی )

ممتاز العلما سید محمد تقی جنت مآب

زبدۃ العلما سید محمد نقی

مولانا سید عبد الجواد (اودھ کی ریاست میں پیش نماز تھے )

 

مزید دیکھیں
تصاویر
3ڈاؤن لوڈز
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024