براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
19 ذوالقعدة 1445
ulamaehin.in website logo
حضرت آیت الله سید العلماء سید علی نقی نقوی ره
حضرت آیت الله سید العلماء سید علی نقی نقوی ره

Ayatullah Syed Ali Naqi Naqvi

ولادت
26 رجب 1323 ه.ق
لکهنو هند
وفات
1 شوال 1408 ه.ق
لکهنو هند
والد کا نام : آیت الله سید ابوالحسن نقوی ره
تدفین کی جگہ : لکهنو
شاعر
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
پیدائش
1323 ه.ق
عراق کا پہلا سفر
1327 ه.ق
اجتہاد کی ڈگری تک پہنچنا
1350 ه.ق
وفات
1988 ه.ق
سوانح حیات
تدریس
تصنیفات
وفات
تصاویر
ویڈیو
کتابیں
متعلقہ لنکس

سوانح حیات

وہ لکھنؤ ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ اپنے خاندان کے ساتھ عراق کا پہلا سفر ۱۳۲۷ ھ میں ہوا۔ انہوں نے نجف ، عراق میں سات سال کی عمر میں "بسم الله" سیکھا اور اپنی ابتدائی دینی تعلیم سید محمد علی شاہ شاہ عبدالزمانی سے حاصل کی۔ اپنے والد سید ابوالحسن کا اجتہاد حاصل کرنے کے بعد ، جبکہ سید علی 9 سال کے تھے ، وہ اپنے خاندان کے ساتھ لکھنؤ روانہ ہوئے۔ انہوں نے 27 سال کی عمر میں محمد حسین نعینی سے اجتہاد کی اجازت حاصل کی۔ دینی تعلیم کے لیے ان کا دوسرا سفر نجف 1927 (1345 ھ) میں تھا۔ وہ لکھنؤ ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ اپنے خاندان کے ساتھ عراق کا پہلا سفر 1327 ھ میں ہوا۔ انہوں نے نجف ، عراق میں سات سال کی عمر میں "خدا کے نام پر" سیکھا اور اپنی ابتدائی دینی تعلیم سید محمد علی شاہ شاہ عبدالزمانی سے حاصل کی۔

 

علمی خدمات

 

آپ بے پناہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے ـ ایک ہی وقت میں دو مدرسوں (مدرسہ ناظمیہ اور سلطان المدارس) میں پڑھتے تھے اور آپ نے مدرسہ ناظمیہ کے فاضل اور سلطان المدارس کے سند الافاضل کا ایک ہی ساتھ امتحان دیا ـ

پھر دوسرے سال دونوں درجوں کے ضمیموں کا اور تیسرے سال ممتاز الافاضل اور صدر الافاضل کا ایک ساتھ امتحان دیا ـ

طالب علمی میں ہی رسالہ سر فراز لکھنؤ، الواعظ لکھنؤ اور شیعہ لاہور میں آپ کے علمی مضامین شائع ہونے لگے تھے ـ

3 یا 4 کتابیں بھی عربی اور اردو میں اسی زمانے میں شائع ہوئیں ـ

تدریس کا سلسلہ بھی جاری تھا ،ـ کچھ عرصے تک بحثیت مدرس، مدرسہ ناظمیہ میں بھی معقولات کی تدریس کی ،ـ

آپ کے اس دور کے شاگردوں میں مولانا محمد بشیر (فاتح ٹیکسلا)، علامہ سید مجتبی حسن کامون پوری اورحیات اللہ انصاری قابل ذکر ہیں ـ

عربی ادب میں آپ کی مہارت اور فی البدیہہ قصائد ومراثی لکھنے کے اسی دور میں بہت سے مظاہرے ہوئے اور عربی شعر وادب میں آپ کے اقتدار کو شام، مصر اور عراق کے علما نے قبول کیا ـ

اسی مہارت کو قبول کرتے ہوئے علامہ عبد الحسین امینی نے آپ کے قصائد کے مجموعے میں سے حضرت ابو طالب کی شان میں آپ کے قصیدے کو اپنی عظیم شاہکار کتاب (الغدیر) کی زینت قرار دیا ـ

نیز آقا بزرگ تہرانی نے شیخ طوسی کے حالات کو آپ ہی کے لکھے ہوئے مرثیے پر ختم کیا ـ

اسی طرح آپ کی مزید علمی صلاحیتوں کا مشاہدہ عراق میں حصول علم کے ابتدائی ایام کی تالیفات سے کیا جا سکتا ہے جہاں آپ نے سب سے پہلے عربی میں وہابیت کے خلاف ایک کتاب تصنیف کی جو کشف النقاب عن عقائد ابن عبد الوهاب کے نام سے شائع ہوئی ـ

عراق وایران کے مشہور اہل علم نے اس کتاب کو ایک شاہکار قرار دیا ـ

دوسری کتاب اقالۃ العاثر فی اقامۃ الشعائر امام حسین کی عزاداری کے جواز میں لکھی

نیز تیسری کتاب چار سو صفحات پر مشتمل السیف الماضی علی عقائد الاباضی خوارج کے عقائد کی رد میں لکھی ـ

 

اجازۂ اجتہاد

 

مندرجہ ذیل فقہاء نے آپ کو اجازۂ اجتہاد سے نوازا :

1: آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی

2: آیت اللہ محمد حسین نائینی

3: آیت اللہ سید ضیاء الدین عراقی

4: آیت اللہ شیخ عبد الکریم حائری یزدی(مؤسس حوزہ علمیہ قم)

5: آیت اللہ محمد حسین اصفہانی

6: آیت اللہ ابراہیم معروف بہ مرزائے شیرازی

7: آیت اللہ شیخ ہادی کاشف الغطاء

8: آیت اللہ میرزا علی یزدانی

9: آیت اللہ شیخ محمد حسین تہرانی

10: آیت اللہ شیخ کاظم شیرازی

11: آیت اللہ میرزا ابو الحسن مشکینی

12: آیت اللہ سید سبط حسن مجتہد

مزید دیکھیں

تدریس

انہوں نے ہندوستان کی لکھنؤ یونیورسٹی میں عربی اور فارسی کی تعلیم دی۔ بعد میں انہوں نے علی گڑھ اسلامک یونیورسٹی میں شیعہ الہیات گروپ میں شمولیت اختیار کی ، جہاں وہ ایک وقت کے لیے یونیورسٹی کے ڈین کے ساتھ ساتھ فیکلٹی آف تھیولوجی اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے ڈین بھی رہے

شاگردان

  • محمدحسین نجفی
  • سید عقیل الغروی
  • رضی جعفر مدرس
  • محمد علی غزنوی مدرس افغانی
مزید دیکھیں

تصنیفات

آپ دین کے نشر و اشاعت کے لیے خطابت کے بہ نسبت تدریس اور تحریر کو زیادہ ترجیح دیتے تھے جس کا اندازہ آپ کی کتب کی طویل فہرست کو دیکھ کر لگایا سکتا ہے ـ

آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود، خاص طور پر اردو زبان میں نہایت اہم کتب، رسائل اور مضامین کا ذخیرہ آنے والی نسلوں کے لیے صدقۂ جاریہ کے عنوان سے چھوڑا ہے ـ

اس کے علاوہ عربی زبان میں بھی عمدہ کتابیں تصنیف کیں ـ

آپ کے قلم سے تحریر ہونے والی کتب، رسائل اور مضامین کی کل تعداد فہرست کتابچہ سید العلماء کے مطابق 141 بیان کی گئی ہے ـ

حالانکہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے

مزید دیکھیں

وفات

یکم شوال (بروز عید الفطر) سنہ 1408ھ مطابق 18 مئی سنہ 1988ء کو لکھنؤ میں آپ کا انتقال ہوا ،ـ اور وہیں آپ کو دفن کیا گیا

مزید دیکھیں
تصاویر
سید العلما سید علی نقی نقوی
تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل
سید العلما سید علی نقی نقوی
سید العلما سید علی نقی نقوی
تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل تصویر کی تفصیل
64ڈاؤن لوڈز
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
شخصی
سید العلما سید علی نقی نقوی سید العلما سید علی نقی نقوی سید العلما سید علی نقی نقوی سید العلما سید علی نقی نقوی
علماء کے ہمراہ
سید العلما سید علی نقی نقوی سید العلما سید علی نقی نقوی سید العلما سید علی نقی نقوی سید العلما سید علی نقی نقوی
قبر مطهر
ویڈیو
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
سیرت آیت اللہ سید علی نقی نقوی
کتابیں
حجج وبینات
حجج وبینات
یہ کتاب امام کاظم اور امام جواد علیہما السلام کے کرامات کا مجموعہ ہے جو عربی زبان میں ہے
پڑھیں ڈاؤن لوڈز
73
ڈاؤن لوڈز
73
ڈاؤن لوڈز
شهید انسانیت
شهید انسانیت
امام حسین علیہ السلام کی زندگی اور حضرت کی شہادت کا مکمل تاریخی مجموعہ
پڑھیں ڈاؤن لوڈز
68
ڈاؤن لوڈز
68
ڈاؤن لوڈز
متعلقہ لنکس
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
2 رجسٹرڈ تبصرہ
syedsikander225@gmail.com
syedsikander225@
6 مہینہ قبل
Reza
Thanks For This Content
3 سال پہلے
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024