براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
16 مُحَرَّم 1446
ulamaehin.in website logo
آیت الله سید علی شبر نقوی

آیت الله سید علی شبر نقوی

Ayatullah Syed Ali Shabbar Naqvi

ولادت
1337 ه.ق
لکھنو
وفات
24 ربیع الثانی 1409 ه.ق
لکهنو
والد کا نام : سید ابو جعفر نقوی
تدفین کی جگہ : لکهنو
مجتهد، شاعر، ادیب،
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
تصاویر
متعلقہ لنکس

سوانح حیات

آپ لکھنؤ انڈیا کے ایک ممتاز شیعہ مجتہد اور شاعر، 1918 میں  آیت اللہ سید دلدار علی نقوی(غُفْران مَآب) کے بڑے صاحِب زادے  سلطان العلماء سیّد محمّد کے محترم نصب میں پیدا ہوئے،  مذہبی علمی اور عَقائِدی وکالت کا زندگی بھر کا سفر طے کیا۔

 

نسب:

 آیت اللہ سید علی شبر نقوی ، عماد الاسلام مولانا سید ابو جعفر نقوی کے صاحب زادے تھے جو بدر العلماء مولانا سید علی اکبر (ڈپٹی) کے صاحب زادے تھے، جو سلطان العلماء آیت اللہ سید محمد (رضوان مآب ) کے صاحب زادے تھے، جو آیت اللہ سید دلدار علی (غُفْران مَآب) کے صاحب زادے تھے۔

 

 تعلیم:

 آپ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد عماد الاسلام مولانا سید ابو جعفر نقوی سے حاصل کی۔ جوانی سے ہی آپ کو عربی ادب بہت زیادہ پسند تھی، یہی سبب بنا کہ آپ نے لکھنؤ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں آیت اللہ سید علی نقی نقوی (نقّن) صاحب کی رہنمائی میں مزید کَسْبِ عِلم کیا اور  عربی میں فاضل ادب کی ڈگری حاصل کی۔

مزید تعلیم  مُعِین العلماء مولانا علی منوّر نقوی  اور  اپنے چچا خطیب اعظَم آیت اللہ سید سبط حسن نقوی کی سرپرستی میں جاری رکھی اور اسلامی فقہ اور الہیات کے دائروں میں گہرائی تک رسائی حاصل کی۔

 

تبلیغی خدمات:

 آپ اپنی فصیح و بلیغ تقاریر (تقریر تبرّہ و مناظرہ) کے لیے شہرۂ آفاق تھے "خاندانِ نبوی کے دشمنوں پر تبرّا کرتے ہوئے" آپ نے"تبرّہ کی شمشیرِ برہنہ" کا لقب حاصل کیا۔

آپ شیعہ عقائد جیسے ولایت امامت، عزاداری اور شِعائرحسینی کا دفاع کرتے، خاص طور پر مجالس میں،  بے خوفی سے شیعت اور عزاداری کے خلاف الزامات کا مقابلہ کرتےتھے۔ ساتھ ہی ساتھ تحریری شکل کے ذریعے بھی متنازعہ مسائل پر، جیسے "علی ان ولی اللہ و خلیفتہ بلافصل اذان کا حصہ ہے" بیان دیتے تھے۔

یوں تو لکھنؤ میں آپ مومنین کی مجلس ایصال ثواب، انجمن ہائے ماتمی کی شب بیداری کی مجالس، بغیر کسی اُجرت کے خطاب کرتے تھے۔

اس کے علاوہ آپ نے لکھنؤ میں 15 سال سے زیادہ امامباڑے ناظم صاحب میں صبح کو، اور امامباڑۂ قصر حسینی میں رات کو عشرۂ مجالس سے خطاب کیا، جہاں سلطان المدارس و دیگر مدارس کے طلبا بھی تشریف لاتے تھے اور آپ کے بیانات کو قلم بند کرتے جاتے تھے۔

اسی کے ساتھ راجہ احمد مہدی (پیرپور) کی گزارش پر، تقریباً 20 برس پیرپور تشریف لے جاتے تھے، اور کامیاب عشرۂ مجالس سے خطاب کرتے تھے۔ 

ساتھ ہی ساتھ آپ نے عبادت خدا کو بھی فراموش نہ کیا، اور تقریباً 25 سال لکھنؤ پتھر والی مسجد میں بغیر کسی اجرت کے نمازِ پنجگانہ کی اقتدا جاری رکھی، اور جونپور میں 5 برس سے زیادہ امامِ جمعہ کے فرائض کو انجام دیا کرتے تھے۔

 

 شاعری اور ادبی خدمات:

علمی مشاغل سے ہٹ کر، آپ اردو اور عربی دونوں زبانوں کے ممتاز شاعر تھے۔ آپ کا عربی دیوان "14 بحر" پر مشتمل ہے۔ اور مختلف عربی شاعرانہ خراج تحسین ("قطعہ تاریخ") مشہور علماء جیسے، آیت اللہ محسن الحکیم، آیت اللہ ابوالقاسم الخوئی، آیات اللہ علی نقی نقّن، اور مولانا کلب عابد کی وفات پر اپنی عربی شاعری کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔

آپ کی اہلیہ، سیدہ سلطانہ اختر نقوی، (غُفْران مَآب کی پر پوتی،) خود ایک باصلاحیت شاعرہ تھیں۔

 

فرزندان:

مولانا محمّد حیدر نقوی

مولانا علی مشعر نقوی

علی مَحْضَر نقوی

علی صفدر نقوی

 

قومی خدمات اور تالیف:

مختلف تحریکوں میں آپ کی شمولیت رہی، بشمول 1939 کی تبرا ایجی ٹیشن، اور 1969 اور 1974 میں محرم کے جلوسوں پر پابندی کے خلاف احتجاج میں سر دست رہے۔  اپنے قریبی ساتھی، مجاہد ملت سید اشرف حسین (ایڈووکیٹ) اور مولانا مرزا محمّد عالم طاب ثراہ کے ساتھ تقریباً 90 دن جیل کا سامنا بھی کیا، لیکن بفضل خدا اور با تائید شہزادی فاطمہ زہرا  سلام اللہ علیہا، آپ کو کامیابی حاصل ہوئی اور جلوس عزاء پر لگی پابندی کو ہٹوا کر، جیل سے ہی علم مولا عبّاس علیہ السلام لے کر درگاہ حضرت عبّاس علیہ السلام پیدل پہنچنے۔

اسی کے ساتھ 1977 میں جب مومنین پر محرم میں ظلم شروع ہونے لگا تو آپ، خود روضۂ کاظمین میں مومنین کے ہمراہ تقریباً 20 دن بھوک ہڑتال پر بیٹھے، جس کے سبب آپ کافی ناتَواں ہوگئے تھے، (جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے)

 

قلمی آثار

تمام طرح کی مشغولیت اور مالی مجبوریوں کا سامنا کرنے کے باوجود، آپ نے "تذكرة الأئمۃ في دين القائمة" کے نام سے ایک ضَخیم عربی کتاب تالیف کی، جو بدقسمتی سے غیر مطبوعہ رہی۔

 

 وفات اور تدفین:

آپ کا انتقال 24 ربیع الثانی سنہ 1409 بمطابق 4 دسمبر 1988 کو لکھنؤ میں ہوا، جب آپ کے انتقال کی خبر ریڈیو پر نشر ہوئی تو، آپ سے محبت کرنے والے قریب کے شہر و گاؤں سے آپ کے آخری دیدار کو لکھنؤ تشریف لائے، آپ کا جنازہ  سات 7 علم مولا عبّاس علیہ السلام کے سائے میں آصفی امامباڑہ (بڑا امام باڑہ) پہنچا جہاں آپ کا غسل و کفن ہوا، اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی، پھر آپ کو  آپ کےجد امجد کے حسینیہ، امام باڑہ غفران مآب میں سپرد خاک کیا گیا۔

 

 

 

مزید دیکھیں
تصاویر
آیت الله سید علی شبر نقوی
.
آیت الله سید علی شبر نقوی
آیت الله سید علی شبر نقوی
.
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
شخصی
آیت الله سید علی شبر نقوی آیت الله سید علی شبر نقوی آیت الله سید علی شبر نقوی
قبر مطهر
آیت الله سید علی شبر نقوی آیت الله سید علی شبر نقوی
متعلقہ لنکس
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024