براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
22 شَعْبان 1445
ulamaehin.in website logo
مولانا مسرور حسن مبارکپوری

مولانا مسرور حسن مبارکپوری

Maulana Masroor Hasan Mubarakpuri

ولادت
17 ربیع الثانی 1364 ه.ق
مبارکپور
وفات
13 ذی الحجة 1430 ه.ق
کامٹی
والد کا نام : مولوی عبدالمجید
تدفین کی جگہ : مبارکپور
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
علمی خدمات
تفسیر قرآن
وفات
تصاویر

سوانح حیات

محلہ پرانی بستی (بکھری) قصبہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد فخر الاطبا حکیم مولوی عبدالمجید صاحب فخر الافاضل سے اور پھر مدرسہ باب العلم مبارکپور میں حاصل کی ۔ پھر یہاں سے مدرسہ سلطان المدارس و جامعه سلطانیہ لکھنو میں داخلہ لیا اور صدر الافاضل کی اعلی سند حاصل کی ۔ اس کے بعد ہندوستان کے مایہ ناز تبلیغی مرکز اداره عالیہ مدرستہ الواعظین لکھنو میں داخل ہوکر تین سال تعلیمی و تربیتی کورس پورا کرنے کے بعد واعظ کی سند حاصل کی اور ادارہ کی طرف سے بحیثیت واعظ و مبلغ مختلف مقامات پر تبلیغی دورے پر بھیجے گئے ۔ مدرسته الواعظین لکھنو ہی کی جانب سے ایک مرتبہ آپ کو رنگون بھی تبلیغی سلسلہ میں بھیجا گیا۔ غالبا یہ مولانا مسرورحسن صاحب قبلہ واعظ مبارکپوری کا پہلا غیرملکی سفر تھا۔ بہتر ین اہل قلم اور خطیب تھے۔

 

آپ کا حلقه تبلیغ مشرقی یو پی اور بہار رہا ہے۔ الواعظ کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ ماضی قریب میں ایران میں قیام تھا ا اور پھر افریقہ میں تبلیغی خدمات  میں مصروف تھے ۔

 

اولاد

مولانا مرحوم کے چند دختر اور ایک فرزند ہیں ۔ فرزند ارجمند حجۃ الاسلام جناب مولا نانصیر مہدی صاحب سلمہ نیک اور ہونہار ہیں اس وقت حوزہ علمیه ایران میں زیر تعلیم ہیں۔ امید ہے کہ اپنے والد ماجد طاب ثراہ کے ادھورے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہونچائیں گے، انشاءاللہ۔

مزید دیکھیں

علمی خدمات

دیگر حالات خود مولانا مرحوم کی قلم سے ان ہی کتاب مجید البیان فی تفسیر القرآن سے ملاحظہ ہوں:

قلمی خدمت کرنے کا جذبہ تو الواعظ کی ادارت کے زمانہ سے ہی تھا۔ (حقیر 1974 سے ۹۸۰ تک ماهنامه  الواعظ لکھنؤ کامد یر ر ہا) ہر ماہ رسالہ مذکورہ کے اڈیٹور میں لکھنے کے علاوہ مضامین بھی لکھنے کی کوشش ہوتی اور دیگر تالیف و ترجمے کی طرف بھی توجہ رہتی۔ چنانچہ اس زمانے میں میں نے مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر محسن العباد کے شہرۂ آفاق عربی مضمون (عقيدة أهل السنة والأثر في المهدي المنتظر) کا اردو ترجمہ کیا جو ماہنامہ الواعظ میں قسط وار شائع ہوا اور بعد میں ادارہ مدرستہ الواعظین لکھنؤ کے شعبہ تصنیف و تالیف موید العلوم نے بھی کتابی شکل میں اس کی اشاعت کی اور ہندوستان کے بعض جرائد میں اس کے تعلق سے بہترین تبصرے شائع ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ تصنیف و تالیف کے لیے اعلی علمی صلاحیت کے ساتھ وقت اور یکسوئی کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصا مذہبی اور اصلاحی کتب کی  تالیف تو مطالعہ و تحقیق کے بغیر دشوار سے دشوار تر مرحلہ ہے ۔ جب کہ اس بے بضاعت میں دونوں ہی چیزیں میسر نہیں۔ علمی کم مائگی کے ساتھ مسلسل ملک اور بیرون ملک کا سفر جہاں محافل و مجالس اور تبلیغی مصروفیات سے اگر فرصت ملی تو کتابوں کا قحط ۔

 

حضرت علامہ ادیب الہندی مولا نا مجتبی علی خاں صاحب طاب ثراہ میری قلمی کاوشیں تلخیص ارجح المطالب کے مقدمہ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:

ارجح المطالب بڑی جامع اور مفصل کتاب ہے اور اس سے افاده و استفاده ہر کس و ناکس کے لیے مشکل اور دشوار تھا۔ اس لئے ہمارے مدرستہ الواعظین کے مایہ ناز واعظ ثقه الاسلام مولانا مسرور حسن صاحب واعظ نے اس کی تلخیص بڑی جانفشانی سے فرمائی ہے اور اپنے بے پناہ مصروفیات سے وقت نکال کر اسے مرتب کرنے میں بڑا وقت دیا ہے ۔ آج کل موصوف تبلیغ دین کے سلسلہ میں افریقہ میں مقیم ہیں۔

 

۱۹۸۳ء میں جب میں سازمان تبلیغات اسلامی ایران سے منسلک ہوا تو اس وقت اس عظیم ادارے کے مسئولین کی خواہش پر بہت سے مضامین کے اردوتر جمے  کئے جو مختلف رسالوں میں شائع ہوئے۔ نیز بہت سی کتابوں کا بھی اردو زبان میں ترجمہ کیا جوساز مان کی طرف سے شائع ہوئی ہیں ۔ ان میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں:

(۱) انقلاب اسلامی اور اقوام عالم کا مستقبل

(۲) رئیس مذہب شیعہ امام جعفر صادق علیہ اسلام

(۳) فلسفه اخلاق ،شہید مطہری

(4) حق و باطل ،شہید مطہری

(۵) انسان و دین ، شہید مطہری

 

میں نے برسوں جوتحریری کام کیا ہے احباب کے بے حد اصرار پر انھیں مختلف موضوعات کی شکل میں اپنے بے پناہ مصروفیات و عوارض کے ساتھ شائع کرنے کی ہمت کر رہا ہوں ۔ زیر نظر کتاب مجید البیان فی تفسیر القرآن کی پہلی جلد اسی سلسلہ اشاعت کی پہلی کڑی ہے۔

ہمیں اپنے خطبات و تقاریر بھی شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ خداوند عالم طفیل محمد و آل محمد علیہم السلام توفیق شامل حال فرمائے تو بیشک ہمارا یہ اراده شرمنده عمل ہوسکتا ہے۔

مزید دیکھیں

تفسیر قرآن

مولانا شیخ مسرور حسن صاحب قبلہ واعظ مبارکپوری طاب ثراہ کی کتاب مجید البیان فی تفسیر القرآن پر زین الواعظین حجت الاسلام عالی جناب مولانا نثار احمد صاحب قبلہ واعظ مجتہد استاد ادارہ عالیہ مدرستہ الواعظین لکھنؤ نے مقدمہ تحریرفرمایا ہے جس کے آخر میں یوں لکھا ہے:۔

برادر محترم  صدر العلماء حجت الاسلام و مسلمین الحاج مولانا مسرور حسن صاحب قبلہ مجیدی قمی مبارکپوری نے قرآن کی موضوعی تفسیر لکھنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ جس کی پہلی جلد تفسیر بسم الله الرحمن الرحیم آپ کے پیش نظر ہے۔ جوه600 صفحات سے زیادہ مشتمل ہے۔ مؤلف نے اس میں فریقین کی بہت سی تفاسیر سے بسم الله اور بائے بسم اللہ کے نکات، اس کے رموز و اسرار نیز اس سے متعلق واقعات و روایات کو جمع کیا ہے اور انھیں کی عبارت کو اکثر مقامات پرمن و عن نقل کر دیا ہے تا کہ کسی قسم کے تصرف کا الزام نہ آئے ۔ جن مفسرین کی تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے ان کا تعلق مختلف شہرودیار سے ہے ان میں سے کوئی لکھنوی ہے، کوئی دھلوی، کوئی بہاری ہے، کوئی پنجابی ، کوئی سندھی ہے کوئی حیدرآبادی ، کوئی عربی ہے۔ کوئی فارسی ، کوئی شیعہ ہے کوئی سنی، گویا یہ تفسیر ایک گلدستہ ہے جس میں مختلف رنگ و بو کے پھول سجے ہوئے ہیں، مؤلف محترم کا کمال یہ ہے کہ موصوف نے اپنی تبلیغی اور سماجی بے پناه مشغولیتوں اور بیرون ممالک کے مسلسل سفر کے و باوجود ایک کتاب تالیف فرمائی جس کی مثال آسانی سے نہیں ملے گی۔ واضح رہے ہی یہ صرف بسم الله الرحمن الرحیم کی تفسیرہے۔ اگر مختلف آیات کی تفسیر ہوتی تو یہ کام کسی حد تک آسان ہو جا تا ، غیر ممالک کے سفر کے دوران جہاں مذہبی کتابیں دستیاب نہیں ہیں۔ کتاب کی تالیف کا کام بہت دشوار معلوم ہوتا ہے۔ اس کام کو مؤلف نے کیسے آسان بنایا یہ انھیں کا حوصلہ و ہمت ہے۔

 

آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تفسیر سے تعلق ایسی محققانہ تفسیر میری نظر سے ابھی تک نہیں گزری ہے۔ (مجید البیان  فی تفسیر القرآن)۔

 

مزید دیکھیں

وفات

حجت الاسلام مولانا شیخ مسرور حسن صاحب قبلہ واعظ مبارکپوری کا انتقال یکم دسمبر ۲۰۰۹ء کو مہاراشٹر میں نا گپور کے قریب کامٹی شہر میں ہوا تھا۔ وہاں سے لاش مبارکپور لائی گئی اور اونچی تکیہ کے قبرستان میں سپردلحد  کر دیا گیا۔ نماز جنازہ آیت اللہ شمیم الملت جناب مولانا سید شمیم الحسن  صاحب قبلہ زعیم جامعه جوادیہ بنارس نے پڑھائی۔

 

مزید دیکھیں
تصاویر
مولانا مسرور حسن مبارکپوری واعظ
.
مولانا مسرور حسن مبارکپوری واعظ
مولانا مسرور حسن مبارکپوری واعظ
.
3ڈاؤن لوڈز
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
مولانا مسرور حسن مبارکپوری واعظ مولانا مسرور حسن مبارکپوری واعظ مولانا مسرور حسن مبارکپوری واعظ
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024