براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
18 ذوالحجة 1445
ulamaehin.in website logo
علامه سید هادی حسین رضوی ره

علامه سید هادی حسین رضوی ره

Allama Syed Hadi Hussain Rizvi

ولادت
1320 ه.ق
رسولپور سونی
وفات
۲۱ رمضان المبارک 1393 ه.ق
رسولپور سونی
والد کا نام : سید حسن عسکری رضوی
تدفین کی جگہ : اله آباد
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
تصاویر

سوانح حیات

عالم ربانی حافظ قرآن حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید ہادی حسین رضوی نجفی طاب ثراہ

ولادت ۔۔۔

دقیق تاریخ معلوم نہ ہوسکی

مرزبوم

رسول پور سونی پرگنہ کراری

والد

الحاج و زائر سید حسن عسکری رضوی مرحوم جو اپنے وقت کے مشہور دیندار ،متقی و پرہیزگار انسان تھے ۔

ابتدائی تعلیم

آپ کی ابتدائی تعلیم رسولپور سونی سے شروع ہوئی۔

اعلی تعلیم

اعلی تعلیم کے لئے آپ نے لکھنو کا رخ فرمایا او ر وہاں مختلف علما و مجتہدین عصر کے سامنے تلمذ فرمایا۔

اساتذہ ہند

آیت اللہ فقیہ اہلبیت سید منور علی رضوی طاب ثراہ

آیت اللہ سید محمد حسین علن طاب ثراہ

آیت اللہ العظمی سید ناصر الملت طاب ثراہ

آیت اللہ العظمی سید نجم الحسن طاب ثراہ

 آیت اللہ العظمی باقر العلوم طاب ثراہ

آیت اللہ سید ہادی طاب ثراہ

وغیرہ

حفظ قرآن

آپ کے خاندان پر خداوندعالم کا اتنا لطف و کرم رہا ہے کہ اس میں اکثر لوگ حافظ قرآن گزرے ہیں ۔ لکھنو میں قیام کے دوران علامہ سید علی رضوی صغیر سونوی طاب ثراہ کے حکم پر آپ نے قرآن مجید کو مختصر سی مدت میں یاد کرلیا ۔

نجف اشرف کے اساتذہ

لکھنو کے بعد آپ نجف تشریف لے گئے اور مراجع عظام سے استفادہ کیا:

آیت اللہ العظمی مرزا محمد حسین نائینی ، آیت اللہ العظمی سید ابوالحسن اصفہانی وغیرہ

شادی

آپ کی شادی کلیم المتکلمین سید الشعراء علامہ سید علی رضوی صغیر سونوی طاب ثراہ کی بیٹی سیدہ مرضیہ بیگم سے ہوئی جو بہت ہی پاکیزہ نفس اور صاحبہ علم و ورع خاتون تھیں ۔

درس تدریس

رمضان المبارک ۱۳۲۷ ہجری میں اعلم العلماء مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید امجد حسین رضوی طاب ثراہ نے الہ آباد کے محلہ چک میں ایک مدرسہ بنام مدرسہ جعفریہ کی بنا رکھی جس میں آپ بحیثیت استاد علوم عربیہ منتخب کئے گئے جس میں کثیر تعداد میں تشنگان علوم سیراب ہوتے تھے۔ چند برسوں تک یہ مدرسہ چلا اس کے بعد آپ نے کراری کے کسی اسکول میں بحیثیت استاد عربی و فارسی ذمہ داری سنبھالی اور اسی سے سبک دوش ہوئے ۔

قوت حافظہ

پروردگار عالم کو آپ کو بلا کا حافظہ عطا کیا تھا ۔ معالم و کفایہ کی عبارات زبانی یاد تھیں جس پر سید ابوالحسن اصفہانی اکثر فخر کیا کرتے تھے ۔

سفر زیارات عتبات عالیات

نجف اشرف سے زیور علم سے آراستہ ہونے کے بعد آپ نے کبھی جوار امیر المومنین سلام اللہ علیہ کو فراموش نہیں کیا ۔ ۱۲ مرتبہ زیارتوں کے سفر پر گئے ۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ جب آپ سفر زیارت پر جارہے تھے تو راستے میں آپ کا سامان چوری ہوگیا جس میں پاسپورٹ تھا جو زائرین ساتھ میں تھے سب پریشان تھے کہ اب کیا ہوگا پر آپ کے چہرے سے اطمینان کے آثار ظاہر تھے آپ کے چھوٹے بھائی عالی جناب الحاج مولوی سید زیارت حسین رضوی طاب ثراہ نے دریافت کیا کہ اخی جان آپ کیسے سفر جاری رکھیں گے تو آپ نے فرمایا کہ میں جس سفر پہ جارہا ہوں اس سفر کی ذمہ داری امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں میں ہے پریشان نہ ہوں بہت جلد سارا سامان مل جائے گا۔ ابھی یہ بات ہوہی رہی تھی کہ معلوم ہوا کہ سارا سامان خود لٹیروں نے لاکر واپس کردیا اور کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اب پورے راستے آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی ۔

زیارتوں پر جانے کے لیے آپ سال بھر پیسہ جمع کرتے تھے احتیاط کا یہ عالم تھا کہ اگر گھر کی پلی ہوئی بکریاں بغیر کسی نگراں کے گھر سے باہر چلی جاتیں تو آپ اسکا دودھ استعمال نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نہ جانے کس کے کھیت میں گئی ہوگی اور کیا کھایا ہوگا ۔

خاص رفقاء

محسن الملت علامہ سید محسن نواب صاحب قبلہ

نادرتہ الزمن علامہ سید ابن حسن نونہروی صاحب قبلہ

سرکار سعید الملت علامہ سید محمد سعید صاحب قبلہ

آیت اللہ سید محمد صاحب کشمیری ابن باقر العلوم

سرکارسید العلماء علامہ سید علی نقی نقوی صاحب قبلہ

ظہیر الملت علامہ سید علی ظہیر صاحب قبلہ وغیرہ

تصانیف و تالیفات

آپ نے کئی کتابیں تالیف فرمائیں جسمیں :

رد وہابیت

نور الکلام فی معرفت الامام( عربی)

تحفتہ المومنین

میرزا نائینی اور سید اصفھانی کے مسائل کا خلاصہ عربی اور اردو میں

تشریح نہج البلاغہ

علم رجال

مفاہیم قرآنی وغیرہ

ادبیات سے دلچسپی

اردو ادب پر مکمل دسترس ہونے کے ساتھ آپ کو عربی زبان پر بھی مکمل عبور حاصل تھا جتنی روانی کے ساتھ آپ اردو بولتے تھے اتنی سے روانی کے ساتھ عربی گوئی بھی تھی جس کی وجہ سے حوزہ علمیہ نجف اشرف میں آپ کا شہرہ تھا ۔ اردو میں اکثر علامہ محشر لکھنوی اور صفی لکھنوی سے خط و کتابت رہا کرتی تھی ۔ لکھنو میں تعلیم و درس کی وجہ سے شعر و شاعری کا بھی شوق تھا زود گوئی کا یہ عالم تھا کہ جیسے ماہر ادیب اور متبحر عالم تحریر کرتا ہے ویسے ہی آپ اشعار کہتے تھے اپنے گھر کے بچوں کو میر انیس کے کلام کے مطالعہ کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے ۔

وفات

ضعیفی تو ضعیفی اس پر جوان بیٹی کے اچانک رخصت ہونے کے بعد ضعف میں اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ 21رمضان المبارک 1393 کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ جنازہ آپ کے دریاآباد الہ آباد میں واقع مکان سے اٹھایا گیا نماز جنازہ آپ کے رفیق دیرینہ آیت اللہ سید محمد رضوی قدس سرہ نے بچشم گریاں امام باڑہ عرب علی خان مرحوم میں ادا کرائی( جو اس وقت فرائض امامت جماعت انجام دینے کے لیے الہ آباد تشریف لائے ہوئے تھے) اور حسب وصیت چکیہ قبرستان میں سپر خاک کئے گئے ۔

مجالس ترحیم چہلم

جیسے جیسے یہ خبر ملک میں پھیلی دور دراز سے خطوط اور تعزیتی پیغامات آنے لگے مجالس ترحیم چہلم کا وقت آیا پسران کے لیے بڑا دشوار مرحلہ تھا کہ کسکو دعوت خطابت دی جائے آخر کار آپکے بھائی مولوی سید زیارت حسین اور بھتیجے سید حامد حسین رضوی کے مشورے سے یہ طے پایا کہ نادرتہ الزمن علامہ ابن حسن نونہروی اور عمدتہ العلماء علامہ سید کلب حسین نقوی صاحب اور خطیب اعظم علامہ سید احمد رضوی صاحب مجالس کو خطاب فرمائیں گے ۔

پورا ہفتہ مجلسوں کا سلسلہ قائم رہا ہندوستان کے صف اول کے علماء و خطباء مجالس سے خطاب کرتے رہے پسران کی جانب سے کثیر تعداد میں تبرکات کا انتظام ہوتارہا۔

پسران و دختران

سید احمد حسن رضوی

سید مہدی حسن رضوی

اور دو دختر

مزید دیکھیں
تصاویر
علامه سید هادی حسین رضوی ره
.
علامه سید هادی حسین رضوی ره
علامه سید هادی حسین رضوی ره
.
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
علامه سید هادی حسین رضوی ره
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024