ولادت
علامہ سید سرکار حیدر نجفی گہروارہ علم و ادب، دبستان فکر و دانش ،مردم خیز تاریخ ساز اور عزائی بستہ نوگانواں سادات کے ایک معزز و دینی گھرانہ میں سنہ 1939ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد جناب سید اختر حسین تھے ۔
ابتدائی تعلیم
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن کے مشہور و معروف مرکز تعلیم و تربیت مدرسہ باب العلم سے شروع کی ۔ ابتدائی حیات سے ہی آپ کی ذہانت اور فعالیت کے تمام خرد و کلاں معترف اور گرویدہ تھے۔
اعلیٰ دینی تعلیم
مدرسہ باب العلم سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے مرکز علم و فقاہت حوزہ علمیہ نجف اشرف کا رخ کیا اور حصول علم میں منصرم منہمک ہوگئے اور اپنی انتھک محنت ،لگن ،سعی و کوشش و بلیغ اور خداد صلاحیتوں کے سبب بہت جلد علوم مروجہ پر خاصی دسترس حاصل کرنے کے بعد بغرض تبلیغ علوم اہلبیت آپ نے اپنے وطن مراجعت فرمائی۔
7 جون 2021 راشٹریہ سہارا دہلی کی تحریر کے مطابق علامہ صاحب نے 1965 میں بغداد یونیورسٹی بغداد عراق سے عربک میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
آپ کے اساتید
یوں تو علامہ سید سرکار حیدر نجفی صاحب نے ہندوستان میں ابتدائی تعلیم سے لیکر نجف اشرف کی مقدس سرزمین کے متعدد علماء و فقہا کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا لیکن طوالت کے خوف سے ہم صرف نجف اشرف کے چند اہم اساتذہ کا ذکر کررہیں ہیں جن سے علامہ کو اجازات بھی حاصل ہوئے تھے:
حضرت ایت اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم رح
حضرت ایت اللہ العظمیٰ سید ابولقاسم الخوئی رح
حضرت ایت اللہ العظمیٰ سید شہید باقر الصدر رح
حضرت ایت اللہ العظمیٰ سید محمد الحسینی شاہرودی
حضرت ایت اللہ العظمیٰ سیدعلی الحسینی اصفہانی رح
حضرت ایت اللہ العظمیٰ محمد الجواد الطباطبائی رح
ہندوستان واپسی
ہندوستان آنے کے بعد نشر واشاعت ،علوم اہلبیت اور تبلیغ دین ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ آپ کے دل میں دین و مذہب اور ملک و ملت کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی آپ ہمیشہ قوم و ملت کی تعلیم و ترقی خوش بختی و خوشحالی کے لیے کوشاں رہتے تھے ۔ آپ نے پورے ہندوستان میں تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھی اور بیرونی ممالک میں بھی علوم اہلبیت نشر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
علامہ مرحوم مبلغ حقیقی ، طلاب علوم دینیہ کے والہانہ ہمدرد ، بے پناہ شفیق ، مہربان ، بذلہ سنج ، منکسر المزاج ، خوش طبع ،پاکیزہ طینت ، شگفتہ شخصیت ، مجاہد قوم و ملت ، شیدائے عزاے سید شہداء اور نونہالان قوم و ملت کے بے مثال مربی و معمار تھے ۔ آپ ایک ایسا مستحکم ستون ہدایت و تبلیغ تھے جسکی کمی دل و دماغ کو عرصہ دراز تک مضطرب و پریشاں کرتی رہے گی ۔
علامہ بالکل سادہ مزاج لیکن عظیم الشان علمی و عملی شخصیت ، ہمت و حوصلے کا پیکر ، زبردست خطیب بہترین قلم کار، بلند پایہ عالم اور عامل کامل تھے ۔ عملیات میں آپ کو خاصی دسترس حاصل تھی ۔ آپ نے دینی تبلیغی خدمات کے ساتھ ساتھ علوم اہلبیت کے ذریعے بھی انسانیت کی ناقابل فراموش خدمات انجام دئے آپ کے دینی ،دنیاوی ، سماجی ، قومی ،ملی ،مذھبی ،انفرادی اور اجتماعی خدمات کو صاحبان عقل و دانش کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ آپ نے زبان و قلم کے ذریعے جو خدمات انجام دئے وہ یقیناً لایق فخر اور قابل صد رشک ہیں ۔
تبلیغی سرگرمیاں
علامہ صاحب نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغ علوم اہلبیت کرکے علم و دانش کے چراغ روشن کئیں۔ بیرون ممالک میں بھی تبلیغی خدمات انجام دے کر ملک و وطن کا نام روشن کیا ہے ۔
ہندوستان کے بعض مقامات جہاں علامہ موصوف نے مستقل قیام کیا اور دین و تبلیغ کے فرائض انجام دئے ان میں سے بعض مقامات مندرجہ ذیل ہیں:
امام جمعه والجماعت شیعہ خواجہ مسجد باندرہ ممبئی
امام جمعه والجماعت مسجد امام علی نقی ع جعفر آباد پرانی دلی
امام جمعه والجماعت لکھنوتی سہارن پور
امام جمعه والجماعت شیعہ جامعہ مسجد سالکھنی (زیر تولیت انجمن آل اطہر)
امام جمعه والجماعت سید چھپرا (ہریانہ)
امام جمعه والجماعت زپتی چھپرا (ہریانہ)
امام جمعه والجماعت سر دھنی بجنور
حسین پور
ہلوانہ سادات
تانپوری سہارن پور
کشمیر
گجرات
گنگوہ
وغیرہ تبلیغ کے میدان میں آپ نے لازوال اور بے مثال خدمات انجام دئے آپ کی علمی خدمات کو اہل حق کبھی فراموش نہیں کریں گے ۔
ملک ہندوستان کے علاوہ فرانس بیلجیم ساؤتھ افریقہ لندن یورپ اور امریکہ کے دیگر ممالکوں میں علامہ موصوف نے خصوصی طور پر اپنی تبلیغ کا مرکز بنایا۔
آپ نے تقریباً 70 برس تبلیغ علوم اہلبیت میں ہمہ تن مصروف و منہمک تھے۔
تالیف و تصنیف
تالیف و تصنیف کے میدان میں آپ نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے جس کے نتیجے میں بہت سی تحریریں ظہور پذیر ہوئیں اور پانچ مطبوعہ کتب موجود ہیں جس میں اہلبیت نامی کتاب مارکیٹ میں دستیاب ہے باقی تحریریں آپ کے فرزندان کی توجہات کی محتاجی ہیں ۔
ہمیں امید قوی ہے علامہ موصوف کے فرزند آپ کی فکر کو عملی جامہ پہناکر آپ کے لیے ثواب جاریه کا ذریعہ قرار پائینگے انشاء اللہ
آپ کے ساتھی
علامہ سید سرکار حیدر نجفی کا شمار ھند وپاک کے مشہور و معروف علماء میں کیا جاتا ہیں علامہ موصوف کے ساتھیوں میں دنیائ ادب و خطابت کی نامور شخصیات شامل ہیں جن میں چند اھم اسماء قابل ذکر ہیں ۔
حضرت ایت اللہ العظمیٰ شیخ بشیر حسین نجفی دامت برکاتہم نجف اشرف
حضرت ایت اللہ العظمیٰ شیخ محمود الحسن خان نجفی دامت برکاتہم
حضرت آیت اللہ طالب جوہری اعلیٰ اللہ مقامہ پاکستان
سرکار روح الملت علامہ سید علی ناصر عبقاتی آغا روحی نجفی حفظ اللہ
حضرت علامہ ذیشان حیدر جوادی اعلی اللہ مقامہ (مفسر قرآن)
علامہ مصطفی علی خان ادیب الھندی اعلیٰ اللہ مقامہ
علامہ شبیح الحسن نجفی نوگانوی اعلی اللہ مقامہ
علامہ سید ابولہاشم نجفی نوگانوی اعلی اللہ مقامہ
آیت اللہ سید حمید الحسن نجفی حفظ اللہ
آیت اللہ سید شمیم الحسن اعلیٰ اللہ مقامہ
قبلہ کی ادبی ظرافت شائستہ اور پروقار شخصیت کی یادیں ،مخلصین ، اعزا و اقربا اور احباب کو ہمیشہ خون کے آنسوں رلاتی رہے گی ۔
اولاد
علامہ مرحوم نے اپنے بیٹوں میں دو بیٹوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی وابستہ کیا ہے :
سید احمد شمس
انہوں نے سیول انجینئرنگ کی پڑھائی کرنے کے بعد جامعہ المصطفی العالمیہ قم ایران میں زیر تعلیم ہیں اور مرجع عالی قدر ایت اللہ العظمی شیخ محمد الیعقوبی کے ہندوستان کے طلاب (قم) کے نمایندے ہیں ۔
سید علی ثمر
جو مدرسہ باب العلم نوگانواں سادات میں زیر تعلیم ہیں ۔
علامہ مرحوم کا عکس انکی اولاد میں دیکھا جا سکتا ہے
خدا وند عالم مرحوم کے تمام فرزندان کو مذہب حق کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
انقلاب ایران میں علامہ سرکار کا کردار
شاہ ایران نے امام خمینی رح کو ایران بدر کیا تو امام خمینی رح نے نجف اشرف کی طرف رخ کیا ، علامہ سرکار حیدر نجفی کے مدرسے میں 6 ماہ قیام کیا
6 ماہ کی مدت میں علامہ موصوف امام خمینی سے بہت زیادہ قریب ہوگئے ۔
اور زیارت کا ارادہ کیا اور ایران آئے ۔ امام خمینی رح نے ایک خط اور چای کی قوری امام جمعه والجماعت تہران کے لیے علامہ موصوف کے ہمراہ کی۔ مشہد مقدس اور قم مقدس کے بعد امام جمعه تہران کی خدمت میں حاضر ہوئے اور امام خمینی رح کا وہ خط اور وہ ہدیہ انکی خدمت میں پیش کیا اور علامہ موصوف ہندوستان چلے گئے ۔ کچھ ہی دن بعد خبر ملی کہ امام جمعه تہران کو شاہ ایران نے قتل کردیا اور پھر انقلاب آیا۔
وفات

