براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
19 ذوالقعدة 1445
ulamaehin.in website logo
علامه حاجی غلام علی اسمعیل

علامه حاجی غلام علی اسمعیل

Allama Gulamali Haji Naji

ولادت
1278 ه.ق
ممبئی
وفات
1362 ه.ق
احمدآباد گجرات
والد کا نام : حاجی اسماعیل
تدفین کی جگہ : بھاؤنگر گجرات
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
تصاویر
متعلقہ لنکس

سوانح حیات

حاجی غلام علی اسمعیل جن کو وہ شیعہ اثنا عشری دنیا محسن قوم کہتی ہے اور حاجی ناجی کے نام سے پہچانتی ہے ممبئی میں ۱۸۶۴ میں ایک متوسط طبقہ کی فیملی میں پیدا ہوئے تھے۔ اس وقت ان کے والد تلاش حق میں مصروف تھے جمال بھائی ہیر جی مسکا والا کی تبلیغ سے حاجی اسماعیل نے اپنے بیٹے غلام علی کے ساتھ شیعہ اثنا عشری مذہب قبول کیا ۔ اس وقت تک ممبئی میں صرف ۱۳ افراد شیعہ ہوئے تھے اور شیعیت کی چھاپ ایک خوجہ کو آغا خانی اسماعیلیوں کی نظر میں واجب القتل بنادیتی تھی۔

 

حاجی نا جی نے مذہبی تعلیم ملا قادر حسین مدراسی مرحوم سے حاصل کی ۔ جن کو اس وقت کے مرجع شیخ زین العابدین مازندرانی نے خوجوں میں تبلیغ و ہدایت کے لئے بھیجا تھا۔ یہ ۱۸۷۲ یا ۱۸۷۳ کی بات ہے ۔ اور ملا قادر حسین اس وقت تیس سال کے تھے ۔ حاجی غلام علی ان کے انتہائی مطیع وفرمانبردار شاگرد تھے جب ملا صاحب باہر نکلنا چاہتے تھے تو غلام علی ان کے لئے جوتے سیدھے کرتے رہتے تھے۔ ایک دن استاد نے دعا دی  بیٹا! آج تم میری جوتیاں اٹھارہے ہو ایک وقت آئے گا کہ لوگ تمہاری کفش برداری کریں گے۔

 

ملا قادر حسین سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مولوی سید غلام حسین حیدر آبادی سے عربی زبان کی کتابیں پڑھنی شروع کیں ۔ جو مہوہ میں آگئے تھے۔

 

حاجی غلام علی کی تحریر اور تقریب لوگوں کو اپنی طرف کچھ لیتی تھی ۔ ان کی مجلسوں کے ذریہ بہتیرے آغا خانی خو جے اور دوسرے مسلمان حلقہ بگوش تشیع ہو گئے۔ اور جو شیعہ ہو چکے تھے ان میں حقیقی جذ به دینداری پیدا ہو گیا ۔

 

جناب میر آغا صاحب طاب ثراه (لکھنو) نے ان کو خیرالذاکرین کا خطاب دیا تھا۔

 

۱۳۱۱ھ میں حاجی صاحب زیارات عتبات عالیات کے لئے عراق گئے اور عا شوره کے بعد آیت الله شیخ محمد حسین ( پسر شیخ زین العابدین مازندرانی مرحوم ) سے ملنے گئے تو انہوں نے فرمایا:  آپ زیارتوں کے لئے بار بار کیوں آتے ہیں۔ جب کہ آپ کا تبلیغی مشن زیارتوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

 

حاجی غلام علی کی رہبرانہ صلاحیتوں کو بالعموم سب نے تسلیم کر لیا۔ لوگ مذ ہیں سماجی اور تعلیمی گھتیوں کو سلجھانے کے لئے ان کی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ لوگوں کی ہدایت کی غرض سے انتہائی کور دہ علاقوں میں بھی جا کر ہد ایت کی روشنی پھیلاتے تھے۔

 

حاجی ناجی پہلے چمڑے کی تجارت کرتے تھے پھر یکم ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو انہوں نے اپنا ماہانہ رساله راہ نجات شروع کیا۔ ۱۴ ۱۳ ھ میں انہوں نے احمد آباد میں ایک پرنٹنگ پریس خریدا۔ جس کا نام اثنا عشری پرنٹنگ پریس رکھا۔ اس پریس کی وجہ سے انہوں نے بھاؤ نگر چھوڑ کر احمد آباد آباد کیا ۔ اور گجراتی رسم الخط میں دعاؤں ، زیارتوں اور سال کے اعمال کے علا وہ قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے عربی کے حروف - ح، خ، ث، ذ،ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق کیلئے گجراتی رسم الخط کے حروف پر مختلف تعداد میں نقطے ڈال کر نئے حروف وضع کئے اور ڈھلوائے۔

 

تفسیر قرآن

ان کی تفسیر قرآن اب بہت کمیاب ہے ۔ بڑی تقطیع پر قرآنی آیات کو گجراتی رسم الخط میں بھی لکھا گیا ہے تا کہ عربی نہ جانے والے تلاوت کا ثواب حاصل کر سکیں ۔ پھر ترجمہ اور مختصر تفسیر۔

اس تفسیر کی بڑی شدید مخالفت کی گئی۔ سب سے اهم وجہ مخالفت یہ تھی کہ اللہ کے کلام کو کافروں کی زبان میں کیوں لکھا جارہا ہے۔

 

دیگر تصانیف

حابی ناجی نے دعاؤں ، مجلسوں، مرثیوں، اور مواعظ کی بہت سی کتابیں تصنیف کیں اور چھپوائیں ۔ خوجہ شیعہ اثنا عشری قوم کی اکثریت عربی رسم الخط سے آشنا نہیں ہے ۔ اس کے باوجود، یورپ سے لیکر امر یکہ تک، افریقہ کی چھوٹی بڑی تمام جماعتوں میں اور هند و پاک سے لیکر ہانگ کانگ اور آسٹریلیا تک جہاں جہاں خو جے میں بالعموم کی قرآت کے ساتھ دعا ئیں اور عمل بجالاتے ہیں ۔ اور یہ حاجی ناجی کی کتابوں کا اثر ہے۔

ان کے تصنیفات کی تعدادکا صحیح اندازہ مشکل ہے ۔ ۱۹۴۲ میں انجمن حمایت الاسلام ممبئی نے راہ  نجات  گولڈن جبلی منائی تھی اور اس کے لئے بہت عالیشان تقریبات منائی گئی تھی اس وقت جو سوینئر  انجمن کی طرف سے شائع ہوا تھا اس کے مطابق حاجی صاحب کے تصنیفات کی تعداد ۱۸۴ تھی ۔ راه نجات کی پچاس جلدیں ، اور ایمان کی ۷ ۲ جلدیں اور باغ ہدایت کی 13 جلدیں اس کے علاوہ  تھیں۔

۱۶  نومبر ۱۹۳۲ ء (۱۳۵۱ھ) کو احمد آباد میں آپ کا مکان ، راه نجات کا آفس مطبوه کتابوں کا اسٹاک اور غیر مطبوعه مقالات اور کتابیں نذر آتش ہوگئیں۔

حاجی ناجی اور ان کی فیملی تو خیریت سے باہر نکل آئی لیکن حاجی صاحب کو یہی فکر تھی کہ کسی طرح میری کتا بیں اور یتیم خانے کے حسابات کی کتاب (جس میں یتیموں کی امانت درج تھی) بچ جائے ۔ جس کا سارا علمی اور دنیاوی سرمایه جل کر راکھ ہو چکا ہو۔ اس کی عالی ہمتی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ نہ کسی سے شکایت کی یہ ایک آنسو بہایا۔ کہ نئے سرے سے دوسرا پریس قائم کیا اور راہ نجات کی اشاعت حسب معمول جاری رہی۔

مذکورہ  بالا راه نجات گولڈن جوبلی کے وقت حاجی صاحب کی عمر ۷۸ سال ہو چکی تھی۔ تقریبات کے فورا بعد ان پر زبردست ہارٹ اٹیک ہوا اور گیارہ دن کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔

آپ نے اردو میں بھی کچھ رسالے اور مضامین لکھے اور چھپوائے تھے ایک رسالہ صراط مستقیم ، مفتی سید محمد عباس صاحب کے ایک فارسی رسالہ کا ترجمہ تھا ۔

ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے کا ظم علی کوثری مرحوم نے رسالہ راہ نجات کو جاری رکھا اور ان کے انتقال کے بعد اب ان کے صاحبزادے اسے چلا رہے ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد یہ خاندان پاکستان آ کر کراچی میں مقیم ہو گیا اور اب یہ رسالہ ( جو دنیا میں شیعہ قوم کا قدیم ترین ماہنامہ ہے ) وہیں سے جاری ہے۔

 

مزید دیکھیں
تصاویر
علامه حاجی غلام علی اسمعیل
حاجی ناجی
علامه حاجی غلام علی اسمعیل
علامه حاجی غلام علی اسمعیل
حاجی ناجی
1ڈاؤن لوڈز
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
علامه حاجی غلام علی اسمعیل علامه حاجی غلام علی اسمعیل علامه حاجی غلام علی اسمعیل
متعلقہ لنکس
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024