مولانا شیخ علی حسین قصبہ مبارکپور کے محلہ پو رہ خضر میں 15 صفر 1327 مطابق 08مارچ 1908کوایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے َوالد کا نام جناب عبد المجید تھا۔ ماں کا نام محترمہ سکینہ عرف معصومہ تھا۔ آپ نے قرآن اور اردو کی تعلیم گھر پرحا صل کی ۔ جوادیہ عربی کا لج بنارس سے فخرالافاضل اور سلطان المدارس لکھنؤ سے صدرالافاضل کی سند حاصل کی ۔ اس کے علا وہ اودھ کالج میں داخلہ لیاجہاں سے عربی ادب و کلام کا کو رس مکمل کیا ۔
سلطان المدارس ، لکھنؤ میں آپ کے اسا تذہ کی فہرست کچھ اس طرح ہے ۔ ۱۔مولانا سید محمد رضا فلسفی صا حب قبلہ ۲۔ مولانا سید عالم حسین ادیب صاحب قبلہ ۳۔ مولانا سید محمد باقر مجتہد صاحب قبلہ اعلیٰ اللہ مقامہ ۴۔ مولانا سید محمد ہادی مجتہد صاحب اعلیٰ اللہ مقامہ ان کے علا وہ دیگر عظیم شخصیات بھی تھیں ۔مزید برآں حکیم سید مظفر حسین صا حب سے علم طب حا صل کیا جس میں وہ مہارت رکھتے تھے ۔بعدہ مدرسۃ الواعظین میں داخل ہوئے ۔ وہاں کا تین سالہ کو رس دوہی برس میں اپنی علمی صلاحیت کی بنیاد پر مکمل کر لیا ۔
بزرگ اسا تذہ ملک النا طقین علامہ سید سبط حسن صاحب اعلیٰ مقامہ اور مولانا سید ابو الحسن صا حب قبلہ مجتہد سے کسب فیض کیا جو کہ سید العلما علامہ علی نقی صاحب قبلہ مجتہد کے پدر بزرگوار تھے ۔
مولانا شیخ علی حسین کئی برسوں تک ممبئی میں مصروف تبلیغ رہے ۔ جہاںپر انہوں نے عوام کے مختلف پیچیدہ مسائل کا تصفیہ کیا ۔وہ عوام کے مسائل کے تئیں ہمیشہ بیدار رہتے تھے ۔کئی مر تبہ رات کی تاریکی میں لو گوں کی نظر وں سے بچ کر غریب کنبوںمیں بلا تفریق مذہب و ملت انا ج و دیگر ضروریات زندگی کی اشیا تقسیم کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے وہاں پسماندہ طبقہ اور دیگر مذاہب کے افراد آپ کو ’’ نا صر ‘‘یعنی ’’مددکرنے والا‘‘کے نام سے یاد کرتے تھے ۔ مولانا علی حسین تبلیغی امور اور فن منا ظرہ میں کافی مہارت رکھتے تھے ۔اسی سبب آپ کو تبلیغ دین کے لیے امرتسر کے عوام نے اپنے یہاں کچھ دنوں کے لیے بلا یا ۔ آپ نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور وہاں کئی برسوں تک تبلیغی خدمات بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔
مولانا علی حسین نے مدرسہ’’ باب العلم ‘‘کے مدرس اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جتنی بھی خدمات انجام دیں ان تمام خدمات کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے ۔ ’’باب العلم ‘‘ کو اعلیٰ مقام اور اس مدرسہ کی فلاح و بہبو د کے لیے انتھک کو شش کی ۔ آپ نے مدرسہ’’ باب العلم‘‘ کے طلبہ کومکمل خرم احتیاط کے ساتھ زیور علم سے آراستہ کیااور انہیں تدریسی اسرار و رموز سے واقف کرایا۔ آپ کے پڑھائے ہوئے طلبہ دنیا کے جس جس گوشہ میں گئے وہاں وہاں انہوں نے مدرسہ باب العلم ، مبارکپورکا نام روشن کیا ۔
استاد الشعراء جناب علی مختار مبارکپوری تحریر کرتے ہیں :
’’مولانا علی حسین صا حب قبلہ مبارکپوری نے1947سے 1957تک بحیثیت مدرس اعلیٰ جو کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ آپ کی جس قدر قدرو منزلت کی جائے کم ہے ۔ مو منین کے دل و دماغ سے آپ کے علم و فضل کی گہری چھاپ کبھی نہیں مٹے گی ۔ ‘‘({ FR 7 })
مولانا علی حسین نے کئی کتابیں تحریر کیں جس میں’’مناقب الحسنین‘‘،’’ مسیحی مناظر ہ ‘‘،’’اصول مدرس ‘‘،’’مناظرہ حسینہ‘‘،’’ درس مفصل ‘‘، مخزن علم ‘‘ ، ’’ فن تدریس ‘‘ ، باب العلم از دید گاہ علما ‘‘،’’ حسینی شا عری ‘‘( شعری مجموعہ غیر مطبوعہ) وغیرہ تحریر کیں ۔ ’’وفات قادیانی‘‘یعنی ابطال نبوت غلام احمد آنجہانی ،جو نجم الملت مولانا نجم الحسن صا حب قبلہ مجتہد کے زیر سر پرستی اور ’’جوادیہ مشن‘‘ کے اراکین کی فرمائش پر شایع ہوئی ۔ ناگزیر اسباب و علل کی بنا پر دیگر کتابیں منظرعام پر نہ آسکیں۔
رئیس الواعظین مولاناسید کر ار حسین مر حوم محمد آباد ، مئو آپ کی شخصیت پر اظہار خیال یوں کرتے ہیں :
’’مولانا علی حسین میں لیا قت علمی ، تبحر علمی، منکسر المزاجی ، فن منا ظرہ ،اصول تبلیغ بدرجہ اتم موجود تھا ۔آپ کے مجھ پر بے شما ر احسانات ہیں۔ میری خطابت،رتبہ ووقار اسی بلند شخصیت کا مرہون منت ہے ۔ مولانا مو صو ف نے پیچیدہ گتھیوں اور مسائل کا تصفیہ کیا ۔‘‘({ FR 8 })
اسی طرح مولانا محمد شاکر نقوی مرحوم(مدرس اعلیٰ مدرسہ ناظمیہ ، لکھنؤ) آپ کی صلاحیتوں کے باب میں یوں لب کشاہیں :
’’مولانا علی حسین جیسے عالم با عمل کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ علمی صلاحیت اور فن تدریس میں ماہرتھے ۔ مو صوف جیسا استادمیں نے بہت کم دیکھا ہے ۔ مولانا علی حسین کی علمی منزلت و لیاقت کی مثال نہیں ہے ۔ ان کی دوپلی ٹوپی کے سامنے بڑے بڑے عمامے ہلکے نظر آتے ہیں۔‘‘({ FR 9 })
مولانا علی حسین اپنی تمام تر مصروفیات کے با وجود اپنا اکثر وقت تاریخ ، تفسیر ، فلسفہ ، علم کلام اور سیرت جیسی کتب کے مطالعے میں گزارتے تھے ۔ آپ کے کثر ت مطالعہ ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ ہر موضوع پر سیر حاصل گفتگو فرماتے تھے ۔ آپ کی گفتگو میں اتنی تاثیر ہو تی تھی کہ جس کو ایک بار سمجھا دیا وہ آپ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ۔ آپ کی اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی منصب کے لیے سعی و کوشش نہیں کی نہ ہی کبھی سیا سی الجھنوں کے شکار ہوئے اور نہ کبھی کسی اختلاف کی نذر ہوئے ۔ آپ نے کبھی بھی اپنی شخصیت کو سیا ست دانوں کے مفادات کی سولی پر چڑھنے نہیں دیا ۔ آپ ہمیشہ تبلیغ دین اور اصلاح امت سے سروکار رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہر دل میں آپ کی باتیں اور سبق آموز نصیحتیں ہر طبقے اور گروہ کی زبان پر جاری ہیں ۔
1958 سے 1990تک افریقی ممالک تنزانیہ ، یو گنڈا ، مڈگاسکر ، ماریشس، کینیا میں اپنے تبلیغی مشن پر گامزن رہے اور دس برس تک ماریشس میں مقیم رہ کر تبلیغ دین مسلسل انجام دیتے رہے ۔ مولانا علی حسین اورفن منا ظرہ میں ماہر تھے جس کی وجہ سے آپ کو ’’ رئیس المنا ظرین ‘‘کے نام سے آج بھی جاناجاتاہے ۔ آپ اخلاق کےایسے عظیم مر تبہ پر فائز تھے کہ آپ کے حسن اخلا ق کی لو گ مثال پیش کر تے تھے ۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نےافریقہ میں کئی سو جانور صفت لو گوں کو اپنے اخلاق حسنہ کی وجہ سے مسلمان کیا ۔ ما ریشس کے مشہو ر و مقبول معزز شہری جناب اظہار علی کے بقو ل:
’’مولانا علی حسین مبارکپوری نے متعدد ایسے جانور صفت لو گوں کو مسلمان کیا جن کو دیکھ کر جانور راہ فرار اختیار کر لیتے تھے ۔ انہوں نے ایسے درندہ خور انسان کو بھی مسلمان کیا جو خونخوار شیر کو پکڑکراس کی گردن کو اپنے دانتوں سے نوچ کر اس کا خون پی جاتے تھے ۔ ‘‘-{ FR 10 }
ما ریشس میں بھی آپ نے ایک تنظیم قائم کی جس کے توسط سے آپ اسلام کے قوانین اور علوم آل محمد اور اہلبیت علیہم السلام کے فرامین سے لو گوں کو واقف کراتے تھے۔آپ کی اس تحریک کو عوام نے بیحد پسند کیا ۔ یہاں تک کہ وہاں کے مقامی اخبار و جرائد وغیرہ میں اس تحریک کاتذکرہ جلی حرفوںمیںملتا ہے ۔ مولانا علی حسین کا اسلامی قوانین پر منحصر پروگرام ماریشس کے ریڈیو سے مسلسل نشر ہو تا تھا ۔ اس نشریہ پروگرام کا اثر یہ ہوا کہ لو گ آپ کی طرف ملتفت ہوتے چلے گئے اسی سبب سے ایک پوری تنظیم قائم ہوگئی ۔
ماہ جنوری 1981میںرسالہ’’ الواعظ ‘‘میں جناب رجب علی غلام حسین صا حب ، جنرل سکریٹری خوجہ شیعہ اثنا عشری جماعت موریشس ( افریقہ) نے مولانا علی حسین کی علمی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے ۔ ان کی تحریر سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ مولانا موصوف کے پاس کتنا علم تھا اور فن خطابت میں انہیںکتنا عبور تھا ۔ آپ کی خطابت کے قصیدے پڑھے جا تے تھے ۔ جناب رجب علی کی تحریر ملاحظہ ہو:
’’09؍ اکتوبر 1980ء کو مولانا علی حسین صا حب قبلہ ( مبا رکپور ی ) صدرالافاضل دو سال کے لیے پھر مو ریشس تشریف لائے ہیں جس کے لیے ہم مولانا صا حب کے شکر گزار ہیں ۔یہ پہلی محرم سے 05محرم تک ’’حسین منی و انا من الحسینؑ ‘‘ پر ایسی مجالس پڑھیں جو یا دگار رہیں اور 06؍ محرم سے 12؍ محرم تک ’’حیات شہداء ‘‘ اور ’’ شہید اعظم ‘‘ کے موضوع پر جتنی مجالس پڑھیں شیعہ ، سنی کا مخلوط مجمع محویت سے سن رہا تھا اور ہر شخص پر ایک کیف طاری تھا ۔ وسیع اور دیدہ زیب امام بارگاہ کی کشش تو تھی ہی اس پر قرآن شریف تفسیر و تاریخ کی روشنی میں ان تبلیغی مجالس نے ایک سماں با ندھ دیا تھا۔‘‘-{ FR 11 }
آپ کے منا ظرے بھی عدیم البدل کی حیثیت رکھتے ہیںآپ نے برادران اہلسنت اور قادیانیوں کے علا وہ دیگر مذاہب کے عقیدتمندوں اور ان کے دانشوروں ، علما کے ساتھ منا ظرے کیے ۔جس میں آپ کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ۔آپ نے جنتے بھی مناظرے کیے چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا پھر ہندوستان کے باہران تمام دو بدو گفتگو میں آپ نے مخالف جماعت کو دندان شکست جوابات دیکر اپنی علمی صلاحیت کا لو ہا منوالیا ۔
مولانا علی حسین مذہب قادیانیت کی ایسی نقاب کشائی کی کہ اس میں ارتعاش پیدا ہوگیا۔ مناظرہ میں قادیانیوں کو شکست خردہ ہو کر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو نا پڑا ۔ فتح و نصرت نے آپ کی قدم بوسی کی۔ اسی زمانہ میں رد قادیانیت میں آپ کی ایک تالیف بنام ’ وفات قادیانی(یعنی ابطال نبوت غلام احمد آنجہانی )منصۂ شہود پر آئی جس کاسن تالیف 20؍ ذی الحجہ 1357ھ بمطابق 10فروری 1939ہے۔
مولانا علی حسین نے اس کتاب میں مناظرہ، بحثوں کو بالاستیعاب دلائل کے ساتھ مع حوالہ جات یکجا کرکے کتابی شکل دی۔ جیساکہ موصوف نے مقدمۂ میں ذکر کیا ہے۔ حصول علم سے فراغ کے بعد اپنے وطن مالوف میں اپنے برادر بزرگ کے نام سے منسوب ایک کمیٹی بنام’’ جوادیہ مشن‘‘ تشکیل دی جسے بانی مدرستہ الواعظین حضرت نجم الحسن طاب ثراہ کی سرپرستی حاصل تھی۔
مولانا علی حسین کاعلم و ادب کے تئیں بہت گہرا ذوق رکھتے تھے ۔مضمون ، اداریہ ، علمی تحریک ، بیداری مہم وغیرہ کے لیے قابل قدر تحریریں سپر د قلم کیے ۔ علمی تحریک اور اسلامی بیداری ، مذہبی بیداری کے عنوان سے ما ریشس کے اخباروںمیں ادبا ء ، نقاد اورمحرر بڑے شوق و ذوق سے آپ کی تحریریں پڑھا کر تے تھے ۔مذہبی اور اصلا حی اداروں کے قیام سے بھی آپ کو طبعی لگاؤ تھا ۔ جہاں رہے اپنا حلقہ بنا کر رہے ۔ کتب بینی ، علم و ادب و شعرو شاعری ، تہذیب و تمدن کے حوالے سے لوگوں کو با خبر کرتے رہتے تھے ۔
مولانا شیخ علی حسین کوفن شاعری سے بھی کا فی دلچسپی تھی ۔ انہوں نے فن شاعری میں بھی بڑے جو ہر دکھائے ہیں۔ ابتدمیں انہوں نے اپنا تخلص’’حسینی‘‘ رکھا ، مگرا پنے استاد کے حکم سے ابتدائی تخلص کو تبدیل کر ’’قیصر ‘‘ تخلص رکھا۔تاحیات جتنی بھی شاعری کی اس میں ’’ قیصر‘‘ہی تخلص اختیار کیا ۔ مولاناعلی حسین کی سماجی شاعری کے عنوان سے زیا دہ کلام نہیں ملتے ہیں۔میری ذاتی تحقیق کی بنیادپر ان کے کلام میں تحقیقی عنا صر مضمر تھے ۔انہوں نے مذہبی شاعری میں ایسے اشعار سپرد قلم کیے جن کی مثال شاید ہی دستیاب ہوسکے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ عوام کی توجہ تاریخ و تنقید اور مطالعہ کتب کی طرف مبذول کر ا ئی۔ مو صو ف کے یہاں جو بھی اشعار ملتے ہیں سب کے سب اس بات کی طرف دعوت دیتے ہیں کہ ’’ ان الجمال جمال العلم و الادب ۔ ملا حظہ ہوں:
کرب و بلا سے پہلے سرخی تھی کیا فلک پر
تاریخ کی کتاب سے تحقیق کرکے دیکھ
مولانا علی حسین قیصر ؔخود بھی شعر کہتے تھے اور اہل علم ، اہل ذوق و فہم کو اس بیش قیمتی فن کی طرف دعوت دیتے تھے ۔ مقاصد و محافل میں موصوف کامقصد اولیٰ شاعروں کی حو صلہ افزائی تھا ۔ان کے زیا دہ تر کلام اسفل زمانہ اور ان کے اخلاف کی تساہلی کے سبب مفقود ہو گیا ۔ ہمیشہ نئے نئے زاویوں کی طرف ان کی نگاہ خا ص تھی اور وہ اس لیے تھی کہ مو صوف کی شاعری عوام اور خواص دنوں طبقے کے لیے ہو تی تھی ۔ ان کی شاعری آنے والے شاعروں کے لیے مشعل راہ ہے ۔ ان کی شاعری میں علمی وثقافتی و ادبی اور ذہنی صلا حیت و لیا قت جھلکتی رہتی تھی ۔
گلشن میں اک شجر ہے پاتا نہیں ہے چین
لب پر غم حسنؑ ہے تو دل میں غم حسینؑ
جس زما نہ میں انہوں نے شاعری شروع کی تھی اس زما نہ میں منا ظرہ ، مباحثہ ، خط و کتابت کے ذریعہ سوالات و جوابات عام بات تھی۔ زبان درازی ، مو قع پر ستی ، سیاست پسندی کا اتنا زیا دہ چلن نہ تھا ۔ تحقیقی مواد کازیا دہ سے زیا دہ رواج تھا ۔ ایسے دور میں جب انہوں نے شاعری کی تو انھیں تمام باتوں کو ملحوظ نگاہ رکھا ۔ملا حظہ ہوں چند اشعار
بار آور ہوئے جب گلشن زہرا کے شجر
دو امامت کے لگے چھوٹے بڑے اس میں ثمر
ایک کا نام حسن ، حُسنِ محمدؐ کی سحر
اور حسین ابن علیؑ برج نبوت کے قمر
…………
آیا علم کے سایہ میں محسوس یوں ہوا
جنت کی پا رہا ہوں ہوا کچھ نہ پو چھئے
…………
زبان کاٹ لو پھر بے زبان ہو کر بھی
حسین والا بہتر زبان بولے گا
…………
مٹی پلید ہو گئی ساری یزید کی
زینبؑ نے ایسا خطبہ دیا کچھ نہ پو چھئے
…………
قصۂ ابلیس و آدم اور جنت کی زمیں
جس جگہ شیطان نظر آتا تھا بار آستیں
یہ اثر عابدؑ میں تیری تربیت کا ہے حسین
کہہ گیا دشمن بھی آخر انت زین العابدیں
زندگی کی پچاسی بہاریں دیکھنے کے بعد بالآخر06؍ نومبر1995ء بمطابق 12جمادی الثانیہ 1416ہجری بروز دوشنبہ کی وہ تاریخ آئی کہ جس کی منحوس گھڑی میں ایک سنسنی خیز خبر نے ہمیں چونکا دیا کہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ کے ممتاز و معروف عالم جلیل فخر قوم ، رئیس المناظرین مولانا المولوی علی حسین صاحب ساڑھے گیارہ (11:30)بجے شب میں دارفانی سے کوچ کر گئے اور ہم ایک جامع کمالات و صاحب علم و فن اور مثالی عالم سے محروم ہوگئے۔آپ کو ’’بندری باغ‘‘مبارکپور، اعظم گڑھ قبرستان میں دفن کیا گیاجہاں ان کے اسلاف دفن ہیں۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے

