براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
15 شَوّال 1445
ulamaehin.in website logo
مولانا سید علی حیدر رہ

مولانا سید علی حیدر

Maulana Syed Ali Haidar

ولادت
1303 ه.ق
کھجوہ
وفات
16 رمضان المبارک 1380 ه.ق
کھجوہ
والد کا نام : مولانا سید علی اظہر
تدفین کی جگہ : کھجوہ
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
سلطان المدارس
تصانیف
تصاویر

سوانح حیات

کھجوہ ضلع سارن میں مجاہد بالقلم مولانا علی اظہر صاحب کے یہاں وہ فرزند پیدا ہوا جس کا نام علی حیدر رکھا گیا اس وقت مولانا سید حسن باخدا زندہ تھے ، علی حیدر نے مقدس دا دا اور مجاہد باپ کی گود میں آنکھیں کھولیں ، اور چار پانچ سال کی عمر میں قرآن مجید دینیات پڑھ لیں ۔ پھر ہائی اسکول میں داخل ہوئے ۔ ۱۳۲۱ ھ میں ہائی سکول کا امتحان پاس کرکے انجینئرنگ کالج میں نام لکھوایا لیکن ڈاکٹروں نے سینہ کمزور قرار دے کر تعلیم سے روک دیا ۔

سنہ ۱۳۲۲ ھ میں مولانا علی اظہر صاحب عیال واطفال کے ساتھ زیارت عتبات عالیات کے لیے گئے ۔ اس سفر میں مولانا الحکیم علی اظہر صاحب نے آیت اللہ حسین درانی آیۃ اللہ الشیخ محمد حسین نجفی آیت اللہ شیخ شریعت اصفہانی آیت اللہ سید کاظم یزدی سے اجازت لئے اور مولانا علی حیدر صاحب نے ان اکابر کی زیارت کی۔

وطن آئے تو اپنے والد کے مشغلے تصنیف و تالیف میں ہاتھ بٹانے لگے تقریبا تین سال تک والد سے مستفید رہ کر ۱۳۲۵ ھ  میں لکھنؤ جانے پر آمادہ ہوئے۔

مولانا علی اظہر صاحب اپنے بھائی مولوی محمد حیدر صاحب ایڈیٹر-شمس اور علی حیدر صاحب کے ساتھ لکھنؤ آئے اور فرزند کو اکابر علما و اساتذہ کی خدمت میں پیش کرکے وطن پلٹے ۔ علما نے نوجوان کو علوم جدیدہ سے باخبر صاحب قلم و صاحب نظر دیکھا تو بہت  محبت کرنے لگے ۔ تمام علماء سے خاندانی روابط تھے ۔ سب نے خاص توجہ کی اور ذہین اور وسیع معلومات طالب علم نے سب کے دلوں میں گھر کرلیا ۔ بنیادی علوم و فنون میں پختگی ہو چکی تھی ۔ ادھر پنجاب یونیورسیٹی کے امتحان مولوی فاضل کی دھاک بیٹھی تھی ۔ اس امتحان میں کامیابی طرہ امتیاز سمجھی جاتی تھی ۔ مولوی علی حیدر صاحب ۱۳۲۸ ھ میں لاہور آئے۔ اورینٹل کالج میں داخلہ لیا دو سال پڑھنے کے بعد ۱۳۳۰ھ میں مولوی فاضل کا امتحان دے کر گھر ہوتے ہوئے لکھنؤ واپس پہنچے۔

پنجاب یونیورسٹی میں فرسٹ پوزیشن کے ساتھ مولوی فاضل کی سند نے علمی حلقے میں ان کی دھاک بٹھا دی۔ مدرسہ سلطان المدارس میں ان کی جگہ محفوظ تھی جناب باقرالعلوم سید باقر صاحب قبلہ کی غیر معمولی محبت و پدرانہ شفقت نے طلبہ کے کو سربلند بنا رکھا تھا۔ مولانا علی حیدر صاحب نے تقریر تحریری مقابلوں میں ممتاز کامیابیاں حاصل کیں۔

جناب مرزا یوسف حسین صاحب قبلہ فرماتے ہیں:

میں مسلم علوم جماعت نہم کا طالب علم تھا اور مولانا علی حیدر صاحب صدرالافاضل کے آخری سال میں ان کے ساتھ غالبا مولانا حیدر حسین صاحب نکہت، ملا یوسف صاحب مولانا محمد صادق صاحب برادر مولانا جعفر صاحب ہیں، اور مولانا سید محمد صاحب امروہی پڑھتے تھے۔ اس جماعت کا امتحان اس لیے یاد ہے کہ میں نے سلم کا پرچہ آٹھ گھنٹے ے تک لکھا اور مولانا کی جماعت10 بجے دن سے تقریبا نصف شب تک جواب لکھتی رہی ۔

۱۳۳۶ھ میں صدر الافاضل سے فراغت پائی ۔ وطن آئے تو والد کو مصروف تصنیف وتالیف دیکھا اس وقت الشمس و اصلاح دو ماہنامہ نکل رہے تھے ۔ مولانا علی اظہر صاحب کے تالیفات الگ تھے۔ لہذا والد کا ہاتھ بٹانا شروع کیا ۔

دین یا دنیا؟ کھجوہ میں ایک ذہین ، قابل ، صاحب قلم ، مقرر ، انٹریس پاس ، علوم دین کا عالم سب کے لئے دلچسپی کا باعث تھا۔ خاندان کے طرقی  پسند چاہتے تھے کہ علی حیدر نوکری کر لیں اور شوق خدمت دین کا تقاضا تھا کہ خبردار یہ نہ کرنا۔ اسی اثنا میں بنگال کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعلیمات کا خط آیا کہ پریسیڈنٹ سی کالج میں عربی لیکچرار کی جگہ خالی ہے ایک سو پچیس روپے تنخواہ ہو گئی درخواست بھیج دو۔ ادھر اس سے کم تنخواہ پر مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ میں طلب تھی آپ نے مدرسے کو ترجیح دی اور لکچرر شپ کو منع کردیا۔

مولانا سمجھتے تھے کہ پٹنے میں رہیں گے تو پریس کا انتظام خاطرخواہ ہو جائے گا۔

 

 

اولاد

متعدد فرزندان و دختران میں سے  مولانا محمد باقر صاحب ، مولانا آغا جعفر صاحب اور مولوی سید رضی جعفر صاحب

مزید دیکھیں

سلطان المدارس

لکھنؤ سے طلب ، سلطان المدارس کی تنظیم نو

ابھی چھ ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ سرکار باقرالعلوم نے لکھنؤ طلب فرما لیا کہ سلطان المدارس میں افسر مدرس کی جگہ پر نامزد ہو چکے تھے۔

مولانا یوسف حسین صاحب قبلہ فرماتے ہیں:

ابتدائی مدرسہ سلطان المدارس میں ایک استاد دو دو جماعتوں کو پڑھایا کرتے تھے اور عموما تمام کتابیں کامل و مکمل پڑھائی جاتی تھیں ۔

صدرالافاضل کے پانچ سال سید حاجی صاحب قبلہ دو سال سے پہلے مفتی محمد حسین صاحب دو سال میں شرعی اسلام مقامات حریری اور سلم العلوم وغیرہ کا درس دیتے تھے۔ نصف اول پہلے سال نصف آخر دوسرے سال مفتی صاحب سے پہلے مولانا انا جعفر حسین صاحب پڑھاتے تھے انہوں نے مدرسہ چھوڑا تو وجاہت حسین ناظم صاحب ان کی جگہ آگئے ناظم صاحب کی ذمہ تھی کافیہ شرح تہذیب بدایۃ الہدایہ نفحۃ الیمن وغیرہ۔

اور دوسری جماعت کو شرح جامع قطبی دروس البلاغۃ صرافاں اور شرح باب حادی عشر پڑھاتے تھے۔

مولوی علی عابد صاحب میزان منشائ ظہور میر تقی میر وغیرہ ایک اور بزرگ ہدایۃ النحو کی جماعت پڑھاتے تھے۔

اس سے پہلے داروغا سخاوت علی صاحب کے عزیز شاید ولی محمد صاحب ابجد خوانی قرآن مجید اردو حساب، خوش خطی کی جماعت کے استاد تھے۔

مدرسہ میں مولانا محمد رضا صاحب قبلہ کے آنے سے کچھ تبدیلیاں ہوئیں نوجوان تب بنائی گئی ہر جماعت کے لیے استاد کا تقرر ہوا صدرالافاضل پانچ سال کے بجائے دو سال کی جماعت قرار پائی اور پہلی تین جماعتوں کو سند الافاضل کی جماعت کا نام ملا۔

اس وقت مدرسے کے اساتذہ یہ تھے:

ولی محمد صاحب سید علی صاحب علی عابد صاحب وجاہت حسین صاحب مفتی محمد حسین صاحب شاہ عبدالحسین صاحب شاہ غلام حیدر صاحب مدرسہ میں، جامعہ میں مولانا عالم حسین صاحب ادب، مولانا محمد رضا صاحب معقولات، مولانا محمد ہادی صاحب فقہ و اصول، جناب باقرالعلوم صاحب فقہ و اصول و حدیث کا آخری درس۔

1340 ھ میں مولانا علی حیدر صاحب مدرسے کی آخری جماعت کے استاد اور افسر مدرس کے نام سے معین کئے گئے ۔ 1344 ھ تک وہ مدرسے میں رہے ۔ اور الکلام کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا جس میں احقاق الحق، نہج البلاغہ اور عروۃ الوثقی کے ترجمے کا سلسلے شروع ہوا ۔ لیکن بھائی کی علالت اور والد کی پریشانیوں نے یہ سلسلہ منقطع کردیا اور موصوف وطن جانے پر مجبور ہوگئے ۔

ربیع الثانی 1345 ھ میں مولوی محمد حیدر صاحب نے رحلت کی ۔ صفر 1347 ھ  میں ان سے چھوٹے بھائی اختر حسین صاحب نے وفات کی ، ان صدمات سے مولانا علی اظہر صاحب کام کرنے کے قابل نہ رہے ۔ لہذا اصلاح کی ادارت اور تصنیف و تالیف کا تمام کام مولانا کے ذمہ آن پڑا ۔ 12 شعبان کو 1347 ھ کو مولانا علی اظہر صاحب نے انتقال کیا ۔

1351 ھ سے 1358 تک مولانا علی حیدر نے تصنیف و تالیف کا بہت کام کیا ۔ لیکن صحافت ایسا فن ہے جو وقت کے ساتھ طاق نسیان کی زینت بنتا چلا جاتا ہے ۔ محنت اور وقت کے لحاظ سے اس کا درجہ تصنیف سے کم نہیں ہوتا مگر چھوٹی ہوتی ہے ۔ اعتراضوں کے جواب وقتی مسائل پر اظہار رائے اور جیسے فائدے ضرور حاصل ہوتے ہیں ۔ الشمس اور شیعہ پھر اصلاح نے شیعہ صحافت میں سب سے زیادہ مدت تک یہ کام انجام دیا۔ اور مولانا علی اظہر صاحب کا لگا یا ہوا پودا مولانا علی حیدر کے ہاتھوں پھلا پھولا پھر ان کے فرزند مولانا محمد باقر صاحب کی عرق ریزی سے تناور درخت بنا۔

1360ھ سے 1369ھ تک جنگ اور اس کے نتائج نے اصلاح و الشمس کو بند کردیا اور مولانا علی حیدر صاحب مستقل کتابیں لکھنے میں مصروف رہے۔

1367ھ میں پاکستان بنا ۔ اس سے رہی سہی رفتار اور اصلاح کی اشاعت ختم ہوگئی۔ اب مولانا ایک بڑے منصوبے کی تکمیل کے لئے کمر بستہ ہوئے ۔

1369ھ میں اصلاح کا باقاعدہ اجرا ہوا اور ادارت مولانا محمد باقر صاحب کو دے دی ۔ خود سوانح امیر المومنین علیہ السلام لکھنے بیٹھ گئے  ۔ 1370ھ میں 504 صفحات اعجاز الولی کے نام اور 1371ھ میں چارسو صفحات قرآن ناطق کے نام سے شایع ہوئے ۔

ضعف اور علالت کا سلسلہ بڑھتا جاتا تھا ۔ جس قدر ممکن تھا لکھتے تھے اور مولانا محمد باقر صاحب اسے مکمل کرتے تھے ۔ اسی زمانے میں تفسیر کا آغاز کیا اور گیارہ پارے مکمل کیے ۔ عقد ام کلثوم پر کتاب لکھی ، تصویر بخاری لکھی ۔

1 جمادی الثانی 1376 ھ کو فالج نے مجبور کردیا لیکن علاج ہوا اور شفا پائی ، محرم 1378 میں پھر علیل ہوئے مگر سنبھل گئے ۔ کچھ نہ کچھ کام کرتے رہے ۔ نماز جماعت تو 13 رمضان المبارک تک پڑھائی مگر اس کے بعد مجبور ہوگئے اور 16 رمضان 1380 ساڑھے چھ بجے یہ شمع گل ہوگئی ۔

مولانا علی حیدر صاحب نے اصلاح کو ایک ادارہ بنایا ۔ اور شیعہ تاریخ و علوم و صحافت میں دیر پا نقش قائم کیے۔ شیعہ تاریخ برصغیر میں ان کا نام جلی حرفوں سے لکھا جائے گا ۔ مولانا علی اظہر صاحب نے اپنا سلسلہ خدمت مولانا علی حیدر صاحب کے سپرد کیا تھا اور مولانا علی حیدر صاحب نے اپنے فرزند مولانا محمد باقر صاحب کو اپنا قلمدان عطا کیا اور مولانا محمد باقر صاحب صدرالافاضل بڑی محنت و خلوص سے تصنیف و تالیف کے ذریعے خدمت علم دین انجام دے رہے ہیں ۔

 

مزید دیکھیں

تصانیف

مولانا کے مضامین افسوس ہے کہ جمع نہیں ہو سکے رونہ ہزاروں صفحات کا ایک دفتر تیار ہوتا ۔ اسی طرح مطالعے کا دفتر بھی ضخیم ہے ۔ متفرق رسالوں کے علاوہ منضبط کتابوں کی ایک فہرست یہ ہے :

مجالس خاتون (تین جلدیں ایک ہزار صفحات )

تصویر عزا (عزاداری پر اعتراضات کے جواب )

سوانح ابوبکر (دوجلدیں )

سوانح عمر

تاریخ ائمہ علیہم السلام مع احوال انبیا

جوہر قرآن (آیات سے حقانیت مذہب شیعہ پر بحث )

شہادت عظمی (جواب شہید اعظم از ابوالکلام آزاد)

فقہ الشیعہ (ترجمہ کتاب صلوۃ عروۃ الوثقی )

ترجمہ احقاق الحق (ناتمام )

ترجمہ و شرح نہج البلاغہ

فضائل امیر المومنین علیہ السلام

مناظرہ مامون الرشید

احادیث عائشہ

فضائل ولی الباری من احادیث صحیح بخاری

عقد ام کلثوم

تصویر بنی امیہ

سوانح عمری حضرت امیرالمومنین علیہ السلام (جلد اول اعجاز ولی، جلد دوم قرآن ناطق، جلد سوم ثقل اکبر)

مجالس انوار

مجالس اطفال

ترجمہ و تفسیر قرآن مجید نا تمام

تحفہ مومنات مشاہیر خواتین اسلام اور اخلاق نسوان

حضرت سکینہ

عزاداری نور خدا ہے

قاموس حوالہ نما ، موضوع اور حاصل مطالعہ

 

مزید دیکھیں
تصاویر
مولانا سید علی حیدر
.
مولانا سید علی حیدر
مولانا سید علی حیدر
.
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
مولانا سید علی حیدر مولانا سید علی حیدر رہ
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024