براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
2 مُحَرَّم 1448
ulamaehin.in website logo
علامه محمد اعجاز حسن بدایونی

علامه محمد اعجاز حسن بدایونی

mohammad ejaz hasan badayuni

ولادت
4 ذی القعده 1298 ه.ق
سرسی مرادآباد
وفات
15 ذی القعده 1350 ه.ق
ڈیرہ اسماعیل خان
والد کا نام : مولانا محمد جعفر حسن
تدفین کی جگہ : ڈیرہ اسماعیل خان
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
تصاویر
متعلقہ لنکس

سوانح حیات

الحاج الزائر الشیخ محمد اعجاز حسن اثنا عشری بدایونی خلف الحاج الزائر مولانا محمد جعفر حسن اعلی اللہ مقامہ، پیش نماز ابن الجناب المستطاب مولانا الزائر المولوی علی حسین امام جمعہ و جماعت طیب اللہ رم سہ ابن المولوی الفت مقام والحبر العلام مولانا الطاف علی المعروف بہ مجتہد اعلی اللہ مقامہ (السوانح الاعجازی) بدایوں کے رہنے والے اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔ اجداد کرام اہل علم و عمل تھے۔ مولانا علی حسین، جناب سید العلماء کے شاگرد تھے۔ جناب سید العلماء، سید حسین صاحب آپ کے حافظے اور مسائل فقہ پر عبور کی وجہ سے "بولتی کتاب" کہا کرتے تھے۔

 

مولانا کی ولادت ۴ ذی قعدہ ۱۲۹۸ ھ کو بمقام سرسی ضلع مرادآباد ہوئی۔ آپ کے نانا سید ولاور علی زائر ابن سید مدد علی صاحب نے محمد اعجاز حسن اور والد نے حسب وصیت پدر محمد حسین نام رکھا۔

 

اپنے والد اور سید شبیر حسین سرسوی اور مولوی مظفر علی خان صاحب، ملا باقر صاحب مراد آبادی، سید احمد حسین سے ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ امروہہ، نوگانواں، میرٹھ اور جلالٰی کے مدرسوں میں بچپن گزرا۔

 

رمضان ۱۳۱۵ ھ میں عقد اور ذی الحجہ ۱۳۱۶ ھ میں آپ کی شادی خانہ آبادی ہوئی۔ مولانا اعجاز حسن والد سے دوری کی بنا پر لاابالی ہو چکے تھے۔ شادی اور ایک سال بعد بچی کی ولادت ہوئی اور والد کی علالت نے لوگوں کو فکرمند کیا اور ایک ایسا واقعہ ہوا کہ جس نے موصوف کی زندگی پر دور رس اثرات کیے۔ خود مولانا کی لفظوں میں ربیع الاول ۱۳۱۸ ھ، ایک دن نماز مغرب کی تیاری میں والد ماجد مشغول تھے کہ میری چھوٹی پھوپھی کے فرزند رشید مولوی محمد اسماعیل الرضا عرف ابوذر بی اے ابن جناب مولوی محمد دولت علی صاحب وکیل میرے والد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میرا ذکر چھیڑ کے یوں عرض کرنے لگے۔ ماموں صاحب، آپ کی ضعیفی ہے۔ اب اعجاز حسن صاحب اولاد ہو گئے، ان کو فکر معاش لازم ہے۔ بدایوں کے تحصیلدار میرے دوست ہیں، اگر اجازت دیجئے تو میں سفارش کرکے تحصیل بدایوں میں اعجاز حسن کو چپراسی دلوا دوں۔ برادر موصوف کی تقریر کو ظاہر میں میرے لیے مفید تھی مگر والد ماجد کے دل و جگر کو اس تقریر نے برما دیا۔ سنتے ہی مرحوم کے چہرے سے آثار غضب نمایاں ہوئے لیکن تحمل کناں فرمایا: ”اے ابوذر، خدا سے ڈرو، ایسی بیہودہ تجویز کو زبان پر نہ لاؤ۔ دیکھو اور خوب یاد رکھو، کہ یہ میرا بیٹا فخر خاندان ہوگا۔ میں اپنے مقلب القلوب والابصار سے امید واثق رکھتا ہوں کہ وہ مجھے ایسے ناچیز بندہ کو ذلیل نہ ہونے دے گا اور میرا سوال رد نہ فرمائے گا۔ وہ میری زندگی میں اس کو لباس علم سے آراستہ کرکے اس کے سر پر عمامہ فضیلت رکھے گا اور تمہارے تحصیلدار اس کی کفش برداری پر فخر کریں گے“۔ ”وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون“، اے ابوذر، ہم لوگ فقراء اللہ ہیں۔ دین و مذہب ہمارا نصب العین ہے۔ ہم کو دنیا طلبی مقصود نہیں ہے کہ ”الدنیا جیفة وطالبہا کلاب“۔ بھائی صاحب کی یہ تجویز میرے لیے نہ کچھ مفید تھی اور نہ موذی، لیکن والد ماجد کا جواب ہدایتِ آب مجھ گمراہ کے لیے منارہ فیروزی اور غفلت شعار و ضلالت دثار کے لیے تازیانہ ملامت ہو گیا۔ نور علم میری آنکھوں میں چمکا، تاریکی جہالت میرے دل سے کافور ہوئی۔ اسی وقت خدا سے پکا عہد کرکے میں نے تحصیل علم دین کے لیے اپنی کمر ہمت مضبوط کر لی اور اپنی پرانی پھٹی کتابیں جمع کرکے صندوق سے اپنے کپڑے لیے، سب چیزوں کا بقعہ بنا کر بغل میں داب والد ماجد کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔ والد نے میری وضع کو ملاحظہ کرکے فرمایا، کیا قصد ہے؟ میں نے عرض کیا، تحصیل علم دین کے لیے لکھنو جانے کا ارادہ ہے۔ فرمایا کیا اب بھی تم پڑھ سکتے ہو۔ دراں حالے کہ تمہارا زمانہ تحصیل قریب ختم پہنچ گیا۔ میں نے عرض کیا اگر جناب کی دعا شامل حال اور معین و مددگار ہے تو نزول رحمت باری میں کیا دیر لگتی ہے۔ بس اب مجھے اجازت دیجئے اور اپنی دعا میرے ساتھ کیجئے۔ اب میں ایک ساعت اس گھر میں قیام نہ کروں گا۔ فرمایا، وقت نماز مغرب قریب ہے، مسجد جاؤ میں بھی آتا ہوں۔ رات مسجد میں گزارو، ان شاء اللہ کل صبح کو میں تمہیں لکھنو لے جاؤں گا۔ الغرض وہ رات تارے گن گن کے مسجد میں کائی۔ سپیدہ سحر نمودار ہوا کہ مبر انصیبہ خفتہ بیدار ہوا، والد ماجد نماز صبح کے لیے مسجد میں تشریف لائے، زحمت ہوئی۔ دن نکلے یکہ آیا، اللہ کا نام لے کر دونوں سوار ہوئے"۔ (السوانح الاعجازیة)

 

مدرسہ ناظمیہ کے ساتویں درجہ میں شرح ملا جامی، قطبی، شرائع الاسلام شرح باب ہادی عشرنفحۃ الیمن کا درس لیا، اور اب مسلسل تعلیم شروع کر دی۔

 

۱۳۱۹ ھ کو زیارت کربلا و نجف کے لیے گئے۔ ۱۳۲۱ ھ میں اپنے والد کے ہمراہ زیارت سے مشرف ہوئے۔ ۱۳۲۲ ھ میں سلطان المدارس کا ایک امتحان دیا اور اسی سال دوسرے حج کے لیے روانہ ہوئے۔ حج کے بعد مولانا نجم الحسن صاحب قبلہ سے شرح لمعہ و قوانین وغیرہ کا درس لیا۔ ۱۳۲۳ ھ میں درجہ قابل پاس کیا۔ ۱۳۲۴ ھ میں تیسر اج کیا۔ ۱۳۲۵ ھ کو ممتاز الافاضل کی تعلیم حاصل کرنے ہوئے مولانا سید محمد بلدی صاحب سے قوانین الاصول اور بحر العلوم سید علن صاحب سے جواہر الکلام پڑھی اور دونوں بزرگوں سے اجازت لیا۔ ۱۳۲۶ ھ میں ککرولی ضلع مظفر نگر آئے۔ اور خدمات دینی انجام دینے لگے۔ ککرولی کی مسجد کی تجدید و تعمیر کی۔ ۱۳۲۷ ھ میں علالت کی وجہ سے ککرولی سے چلے آئے، ۱۳۲۸ ھ میں مولانا نجم الحسن صاحب نے مدرسہ عالیہ رام پور میں مولوی فاضل کے لیے مدرس مقرر کیا۔ اسی زمانے میں مولوی مقبول احمد صاحب نے صیغہ تصنیف و تالیف و ترجمہ موصوف کے سپرد کردیا۔ آپ نے اعتقادیہ صدوق کی شرح لکھی اور مستقل تصنیف و تالیف کا مشغلہ شروع کردیا۔ ۲ شعبان ۱۳۲۲ ھ کو آپ کے والد مولانا محمد جعفر حسن نے رحلت کی۔ اس وقت مولانا محمد اعجاز حسن صاحب آگرہ میں مقیم تھے۔

 

۱۳۳۵ ھ میں جامع حامد یہ کی تالیف کے سلسلے میں رام پور گئے مگر قیام جلالی اور بدایوں میں رہا۔ ۱۳۳۶ ھ سے ملک میں دورے شروع کیے۔ ۱۳۳۷ ھ میں لکھنو شیعہ اسکول میں ملازم ہو گئے۔ ۱۳۴۲ ھ میں مدرسہ ناظمیہ میں بطور مدرس درجہ قابل تقرر عمل میں آیا۔ ۱۳۴۰ ھ سے مدرسۃ الواعظین میں پڑھا رہے تھے۔ ۱۳۴۲ ھ میں مستقل مدرس ہو گئے۔

 

اس زمانے سے مناظرہ و تبلیغ کے دورے شروع ہوئے۔ اور برصغیر کے شہروں اور دور دراز بستیوں میں گئے۔ رنگون اور زنگیبار و ممباسہ و عدن کا سفر کیا۔ مزارات مکہ و مدینہ کے انہدام پر احتجاج و اقدامات میں بڑی خدمت انجام دی۔

 

۱۳۴۸ ھ میں آپ نے پانچواں حج کیا۔ اس حج کے بعض واقعات کے ذیل میں مولانا نے لکھا ہے کہ قبا میں چھ ہزار شیعہ آباد تھے مگر ابن سعود کی پالیسی سے تین سو شیعہ باقی رہ گئے ہیں اور وہ بھی خوفزدہ ہیں۔ مولانا نے سات حج اور متعدد مرتبہ شرف زیارات حاصل کیا۔ آپ بڑے مخلص و متدین، حامی و مبلغ اسلام تھے۔ اسلام دشمن مذاہب سے مقابلے اور اسلام و تشیع کی سربلندی کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے۔ مدرسۃ الواعظین لکھنو کی تاسیس اور مبلغین کی تعلیم، اور مدرسے کے عظیم الشان کتب خانے کے لیے آپ کی کوشش بہت بڑا کارنامہ ہے۔ مولانا محمد اعجاز حسن صاحب قبلہ عربی و اردو کے قادر الکلام مصنف اور شیوا بیان خطیب تھے، تبلیغ دین کے لیے جان قربان کرنے سے دریغ نہ تھا۔

 

تلامذہ:

مولانا محمد اعجاز حسن صاحب نے متعدد برسوں اور مختلف جماعتوں کی طلباء کو پڑھایا اس لیے ان کے شاگردوں کا شمار مشکل ہے۔ موصوف نے ۱۴۰۴ ھ کے شاگردوں کی ایک مختصر فہرست "السوانح الاعجازیة" کے ضمیمہ میں قلم بند کی ہے۔ ان اڑتالیس ناموں میں سے چند نام یہ ہیں:

لقا علی حیدری

امداد حسین خان سلطان پوری

مرزا محمد طاہر صاحب لکھنوی

سید علی جعفر جونپوری

وحید اصغر زید پوری

محمد بشیر صاحب نیکسلا

ڈاکٹر مجتبیٰ حسن کاموں پوری

محمد رضی صاحب آل نجم العلماء

محمد زکی صاحب آل نجم العلماء

سعادت حسین خان صاحب سلطان پوری

ابرار حسین باروی

محمد عارف صاحب شادی ضلع ملتان

خادم حسین صاحب بڑا گاؤں فیض آباد

ثمر حسن صاحب

سید محمد کاظم نجفی رنگونی

محمد جواد طہرانی

سید حسین قمی

رضی عباس صاحب چارپوری

 

تصانیف:

ہدیہ جعفریہ ترجمہ اعتقادیہ صدوق، یہ رسالہ آپ نے اپنے والد کی خدمت میں ہدیہ کیا تھا، ہدیہ جعفریہ متعدد بار چھپ چکا ہے۔

ایضاح الفرائض، میراث پر تحلیلی مفصل کتاب

معراج النبوة

وجیزۃ الصرف، عربی

حل لغات نہج البلاغہ، مطبوعہ

حاشیہ سیوطی (عربی)

شرح الغیبیہ

ترجمہ جلد اول ناسخ التواریخ

مصائب اہل بیت

نجم الہدایہ، مطبوعہ

تذکرہ محمدیہ (حالات حضرت محمد بن ابی بکر) مطبوعہ

شمس الاعتقاد، مطبوعہ

افضلیۃ النبی علی سائر العباد (مطبوعہ)

تجوید القرآن دو حصے، مطبوعہ

شجرۃ الانبیاء والائمہ، اردو، مطبوعہ

ایضاح الاشکال (منطق) مطبوعہ

برہان مجادلہ فی تفسیر آیۃ المباہلہ، اردو، مطبوعہ

وظائف اعجازیہ، مطبوعہ، اردو

احکام جماعت، مطبوعہ

خزینہ ہدایات، مطبوعہ

نجم العقائد، مطبوعہ

تنبیہ الناصبین، دو جلد

(اور متعدد اہم اور مشہور کتابیں جن پر ان کا نام نہیں ہے)

ترجمہ اصول کافی

کتاب العقل

کتاب الادعیہ

کتاب فضل القرآن

کتاب العشرہ

تحفۃ المقبول، مطبوعہ

مقدمات القرآن، مطبوعہ

لغات القرآن

فہرست الفاظ قرآن

ضمیمہ جات مقبول ترجمہ مقبول پرائمر، پانچ حصے، یہ کتابیں مولانا مقبول احمد صاحب کی خواہش پر ان کے نام سے شائع ہوئیں

دلیل الخلافت، عربی

ترجمہ ارشاد المفید

ترجمہ مناز الہدی (نصف) مشمولہ جامع حامد یہ

ترجمہ فصول المہمہ ابن صباغ

ترجمہ احتجاج طبرسی (اکثر الجواب)

ترجمہ خلاصہ جامع عباسی

اعجاز الخلافة

ترجمه نماز

نجم الاعتقاد (رد فرقہ مساواتیہ غالیہ)

الوعید لیزید، جواب التزویب (رد غلاة)

اعجاز المضامین

الرجم، جواب عبد الشکور دو جلدیں

رد کواذب شکوریہ جواب اعتراضات شیعہ

ازالۃ خرافات شکوریہ، جواب رسالہ تحریف القرآن

اعجاز المناسک

معیار الانتقاد و رسالۃ خیر الاعتقاد

 

اولاد:

محمد صفی الحسنین مرحوم محمدی

محمد زکی الحسنین مرحوم محمدی

محمد عزیز الحسنین ریٹائرڈ پروفیسر گورنمنٹ کالج شکار پور (متوفی صفر ۱۳۹۶ ھ)

پروفیسر محمد شفیع الحسنین محمدی، وائس پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سکھر

مولانا محمد شبیر الحسنین صاحب محمدی (اسلام آباد)

محمد نقی الحسنین صاحب محمدی (کراچی)

محمد رفیع الحسنین صاحب محمدی (بدایوں)

 

 

وفات

۱۵ ذی قعدہ ۱۳۵۰ ھ / ۲۳ مارچ ۱۹۳۲ ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک تقریر کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑا اور دنیا سے سفر فرما گئے۔

 

 

 

ماخذ تذکرہ محمدیہ (احوال محمد بن ابی بکر)

السوانح الاعجازیة بخط مؤلف

بیانات مولانا شبیر الحسنین صاحب محمدی

تذکرہ بے بہا

مزید دیکھیں
تصاویر
محمد اعجاز حسن بدایونی
.
محمد اعجاز حسن بدایونی
محمد اعجاز حسن بدایونی
.
1ڈاؤن لوڈز
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
محمد اعجاز حسن بدایونی
متعلقہ لنکس
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2026