براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
18 ذوالحجة 1445
ulamaehin.in website logo
آیت الله سید علی حائری رضوی

آیت الله سید علی حائری رضوی

Ayatullah Syed Ali Haeri Rizvi

ولادت
1298 ه.ق
لاهور
وفات
3 جمادی الثانی 1360 ه.ق
لاهور
والد کا نام : سید ابوالقاسم
تدفین کی جگہ : لاهور
شیئر کریں
ترمیم
کامنٹ
سوانح حیات
مشہور فتاوا
علامہ اقبال اور سید علی حائری
اساتذہ
تالیفات
مرجع تقلید
وفات
تصاویر
متعلقہ لنکس

سوانح حیات

برصغیر پاک و ہند کی ایک معروف ترین شیعہ شخصیت تھی ۔ ابتدائی اور متوسط درجے تک اپنے والد ابو القاسم حائری کے پاس حاصل کی اور پھر عراق گئے جہاں مختلف اساتذہ سے اجازۂ اجتہاد حاصل کرنے کے بعد واپس آئے اور لاہور میں رہ کر مذہبی خدمات تبلیغ و تحریر کی صورت میں انجام دینا شروع کیں۔ علامہ اقبال لاہوری آپ کے پاس اکثر و بیشتر آتے ۔ لوامع التنزیل کے نام سے قرآن پاک کی تفسیر کہ جسے آپ کے والد نے شروع کیا اور اسکی 12 جلدیں لکھیں آپ نے اسے تکمیل کرنا شروع کیا اور اسکی 15 جلدین لکھیں لیکن پھر بھی وہ تکمیل نہ ہو سکی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے نظریات کے مخالف تھے اسکے خلاف علمی اقدام بھی کئے نیز اسکے مرتد ہونے کا فتوا صادر کیا ۔ علمی ذخیرے میں 50 سے زیادہ آثار چھوڑے ۔بعض نے 72 تک تعداد بیان کی ہے۔آپ کی رحلت کے دن لاہور کے تعلیمی ادارے بند رہے ۔

آپ کا اصل وطن مملکت ایران کا شہر قم تھا۔ سلسلہ نسب امام علی رضا ؑ تک پہنچتا ہے اس لئے رضوی کہلاتے ہیں۔ آپ کےجد امجد سید حسین قمی ایران سے وارد کشمیر ہوئے اور پشمینہ کا کاروبار کرنے لگے۔ آپ کی ایک شاخ اب تک کشمیر میں آباد ہے۔

 

علامہ سید علی حائری ۱۲۹۸ ھ ( ۱۸۸۱ ء ) میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ فقہ ، اصول فقہ ، اور علم تفسیر و حدیث جیسے علوم اپنے والد ماجد ابو القاسم حائری سے پڑھے پھر بغرض تکمیل علوم عتبات عالیات ( عراق و عرب ) کو روانہ ہوئے۔ سامرہ میں مرزا محمد حسن شیرازی اور مرزا حبیب اللہ رشتی نجفی کے درس میں شریک رہے، انکے علاوہ آقا سید کاظم طباطبائی ، آقا مازندرانی ، ملا محمد کاظم خراسانی اور سید ابو القاسم طباطبائی نے آپ کو اجازت مرحمت فرمائے۔

 

دسمبر 1911ء میں شہنشاہ جارج پنجم کی تاجپوشی کے موقعہ پر آپ پنجاب کے شیعوں کی طرف سے دربار دہلی میں مدعو کئے گئے۔ [1]

 

سنہ 1915ء میں آل انڈیا شیعہ کانفرس لکھنؤ کے اجلاس میں آپ کو کرسئ صدارت پر بٹھایا گیا۔ شیعہ کالج لکھنؤ کےقیام کے سلسلے میں بھی آپ متعلقہ اجلاس کی روح رواں تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی خاطر ایک خطیر رقم اپنی جانب سے بطور نذر پیش کی۔ مولانا نہایت وجیہہ ، بے حد جامہ زیب اور بہت ہی خوش گلو تھے۔آپ کی تقاریر قرآن و حدیث کے تحت نہایت مدلل ہوتی تھیں۔جملہ مذاہب کے لوگ آپکے سامعین ہوتے ۔ آپ کی ہر دلعزیزی اور علمی فضیلت کی بناء پر حکومت نے یکم جنوری 1927ء کو ایک نوٹیفیکیشن[2] کے ذریعے آپ کو شمس العلماء کا خطاب عطا کیا۔

 

آپ پہلے اندرون شہر چوک نواب صاحب متصل مسجد نواب صاحب قزلباش رہا کرتے تھے۔ ۱۹۳۰ ء میں آپ نے شہر سے باہر وسن پورہ میں اپنا مکان تعمیر کرا لیا اور وہیں ایک وسیع و عریض مسجد بھی بنوائی جسے جامعہ حائری کہتے ہیں۔

 

اولاد

آپ کی اولاد میں تین بیٹے سید رضی رضوی ، سید زکی رضوی ، سید تقی رضوی ، تھے جنہوں نے دنیاوی تعلیم حاصل کی ۔

مزید دیکھیں

مشہور فتاوا

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب اسلام دشمنی میں اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کرنا شروع کیا تو آپ نے اس کے خلاف قلم اٹھایا ۔ آپ کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تحریروں میں اس کی طرف اشارہ کیا اور بعض اوقات آپ کی نسبت نازیبا الفاظ استعمال کئے ۔جب اس نے اسلام کے بنیادی عقائد کا انکار اور انہیں نشانہ بنایا تو آپ نے اس وقت اپنی فقہی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اور اسکی تعلیمات کے مسلمان معاشرے پر اثرات کو روکنے کیلئے اسے مرتد قرار دینے کا فتوی دیا ۔اسی طرح مسجد شہید گنج لاہور کو برقرار رکھنے کا فتوی دیا جس کی وجہ سے حکومت برطانیہ اس مسجد کو باقی رکھنے پر مجبور ہوئی ۔ ان دونوں فتووں کو اس وقت کے اخباری میڈیا نے شہ سرخیوں سے نشر کیا ۔مسجد کے فتوے کی بدولت یہ مسجد اب بھی باقی ہے ۔

مزید دیکھیں

علامہ اقبال اور سید علی حائری

علامہ اقبالؒ آپ کے اردتمند تھے اور آپ سے ملاقات کیلئے آیا کرتے تھے۔ایک ملاقات میں آپ نے علامہ اقبال سے کہا: مجھے آپ جیسے عالم و فاضل اور مفکر سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ یوں اہل بیت اور آل محمد کی عظمت سے بے خبر ہونگے کیونکہ آپ نے ابھی تک ان کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ چنانچہ اسکے بعد علامہ اقبال کئی مرتبہ آپ کے پاس تبادلہ خیال کیلئے آتے رہے اور پھر آخر عمر تک اقبال اہل بیت کی شان میں لکھتے رہے اور ایسا لکھا جسکی نظیر پیش کرنا مشکل ہے۔ علامہ اقبال آپ کے بہت قدر دان تھے یہی وجہ تھی کہ علامہ اقبال کا نماز جنازہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی گراؤند میں قبلہ علامہ حائری نے پڑھایا اور پھر دوبارہ بادشاہی مسجد میں کسی دیگر عالم دین نے پڑھایا۔

مزید دیکھیں

اساتذہ

اساتذہ

سامرہ میں عرصہ تک سرکار جناب مرزا محمد حسن صاحب شیرازی کے درس خارج میں شرکت کی اور کچھ عرصہ مرزا حبیب اللہ رشتی نجفی مرحوم کے بھی درس میں شریک رہے اور ان دونوں بزر گواروں نےاور جناب آقا سید کاظم صاحب طباطبائی اورجناب آقا عبد اللہ مازندرانی اورجناب ملا محمد کاظم خراسانی اور جناب السید ابوالقاسم طباطبائی معروف بعلامہ طباطبائی نے آپ کو اجازے دئیے ۔

 

۔ آیت اللہ مرزا محمد حسن شیرازی ؒ

۔ آیت اللہ مرزا حبیب اللہ رشتی ؒ

۔ آیت اللہ سید کاظم طباطبائی ؒ

۔ آیت اللہ محمد کاظم خراسانی

آپ کے شاگردوں میں مولوی مرزا احمد‌علی صاحب امرتسری مصنف رسالہ دلیل العرفان وغیرہ ہیں اور مولوی قائم حسین صاحب ہیں ۔

مزید دیکھیں

تالیفات

سید علی حائری رضوی نے فقہ، تفسیر، کلام، دعا اور اخلاق کے موضوعات پر عربی، اردو اور فارسی زبان میں کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کی مشہور تالیفات میں سے ایک لوامع التنزیل سواطع التاویل ہے اس تفسیر کی 15 جلدیں لکھیں جن میں سے 26 تک کو مکمل کیا اور27ویں جلد کو جزوی طور پر لکھا تھا کہ وفات پاگئے۔

اعمال عاشورا (عربی)

بیان الجہر و الاخفات(عربی)

تفسیر لوامع التنزیل سواطع التاویل: اس تفسیر کی 15 جلدیں لکھیں جن میں سے 26 تک کو مکمل کیا اور27ویں جلد کو جزوی طور پر لکھا تھا کہ وفات ہو گئی۔

عشرہ کاملہ  (فارسی)

غایت المقصود جلد اول فارسی، جلد ۳ فارسی: ختم نبوت اور وحی سے متعلق جامع کتاب۔ بقول آقا بزرگ تہرانی یہ 4 جلدوں پر مشتمل جسکی پہلی جلد قادیانیت کے خلاف ہے اس احوال امام زمان دوسری جلد دجال کے متعلق ہے۔

مصابیح الظلام(فارسی)

اباحۃ نکاح الہاشمیہ لغیر الہاشمی: غیر سید اور سید زادی کا نکاح کرنا جائز ہے۔(فارسی)

میزان الاعمال در میزان قیامت(فارسی)

تنبیہ المومنین در شرائط اجتہاد(فارسی)

منہاج السلام(فارسی)

ملفوظات حائری(فارسی)

تحذیر المعاندین(فارسی)

سیف الفرقان فی تعریف الکفر والایمان(فارسی)

سوال و جواب(فارسی)

انوار درعلت اغسال(فارسی)

رسالہ الغدیر(فارسی)

خوارق البوارق دراعجاز قرآن(فارسی)

حل ما لا ینحل دراحکام کفار و ولد الزنا(فارسی)

لمعہ لمعانی: خاک شفا پر سجدہ کرنے کے متعلق(فارسی)

وسیلۃ المبتلاء(فارسی)

حجت شاہدہ (خلافت راشدہ کا جواب ہے) (فارسی)

التنقید در اجتہاد و تقلید(فارسی)

تبصرۃ العقلاء(اردو)

منہج المعاد(اردو)

رسالہ مضمون طاعون(اردو)

سوانح قاسمی: اپنے والد سید ابو القاسم حائری کے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔(اردو)

تقلید المقلدین(اردو)

مقدمات نماز(اردو)

نماز جعفریہ(اردو)

نماز امامیہ(اردو)

نماز نفلیہ(اردو)

بشارات احمدیہ: بائبل سے نبوت اور امامت کا اثبات۔(اردو)

ہدایات حائری(اردو)

احکام الشکوک و شکیات نماز(اردو)

فتاوی حائری حصہ اول تا ہشتم(اردو)

حجاب نسواں(اردو)

مناسک حج(اردو)

مسیح موعود(اردو)

مہدی موعود(اردو)

فلسفۃ الاسلام (اردو)

دلیل المتعہ(اردو)

حقیقت پردہ(اردو)

خلافت قرآنی(اردو)

موعظہ حسنہ الملقب بہ اظہار حقیقت: 28 اکتوبر 1912ء کو دس ہزار کے مجمع میں مخالفین کے ساتھ سوالوں کا جواب 48 معتبر کتب سے دیا۔

موعظہ غدیر

موعظہ مباہلہ

موعظہ تقیہ

موعظہ تحریف قرآن: شیعوں کے نزدیک قرآن کے تحریف نہ ہونے پر لکھا۔

تنقید

صورت الصلوۃ

رسالۃ الہدی

البرہان: سکوت امیر المومنین کے بارے میں ہے۔(اردو)

اللواء: کربلا میں میت دفن کرنے کے متعلق ہے۔(اردو)

الموید(اردو)

مفید الصبیان و النسواں(اردو)

رسالہ الموئد نصاری کے رد میں ہے، تقریظات المشاہیر، چار جلدیں؛ قصائد مدحیہ؛ حدیث قرطاس

 

مزید دیکھیں

مرجع تقلید

پاک و ہند میں آپ کی تقلید کی جاتی تھی ۔پنجاب و سندھ میں آپ کے مقلدین کی کافی تعداد تھی۔نیز برما و افریقہ میں بھی مومنین آپ کی تقلید کرتے تھے۔

مزید دیکھیں

وفات

سید علی حائری نے تفسیر لوامع التنزیل کی 27ویں جلد میں سورۂ قمر کی تکمیل کرتے ہوئے وفات پائی۔آپکی وفات کا دن ۲۸ جون ۱۹۴۱ 3جمادی الثانیہ1360ھ بروز ہفتہ تھا ۔ کربلا گامے شاہ بیرون بھاٹی گیٹ لاہور میں دفن ہوئے ۔

آپ کی وفات پر اخبارات نے خاص شمارے نکالے اور آپکے جنازے میں بہت زیادہ لوگوں کی تعداد شریک تھی ۔ کسی نے اشعار کی صورت میں تاریخ وفات کہی :

 

بتاریخ وفات سیدہ ؑ روزی کہ بد شنبہ                رسیدہ روح آن مرحوم نزد حضرت احمد

چو شد امر رقم حاصل ہم آواز ملک گشتہ              بگو در خلد علامہ علی حائری آمد

مزید دیکھیں
تصاویر
آیت الله سید علی حائری رضوی
.
آیت الله سید علی حائری رضوی
آیت الله سید علی حائری رضوی
.
2ڈاؤن لوڈز
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
آیت الله سید علی حائری رضوی تفسیر لوامع التنزیل
متعلقہ لنکس
دیگر علما
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024