براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
18 ذوالحجة 1445
ulamaehin.in website logo
جامعة الزهرا س

جامعة الزهرا س

jamia al zahra

شہر
لکھنو
صوبہ
یوپی
سال قیام
1415 ه.ق

۲۰؍جمادی الثانی ۱۴۱۵ھ(۲۴؍نومبر ۱۹۹۴ء)کو مربیٔ ملت حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج مولانا سید حیدر مہدی زیدی طاب ثراہ نے ہندوستان کے علمی شہر لکھنؤ میں قوم کی بچیوں کو اعلیٰ دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے مدرسہ جامعۃ الزہراء(س) کے نام سے پہلی درس گاہ اپنی شریک حیات فاضلہ جلیلہ خواہر سیدہ رباب زیدی صاحبہ کے ساتھ قائم کی ۔

شیئر کریں
کامنٹ
تعارف
تعلیمی و تربیتی نظام
دار القرآن ’’ بزم فضّہ‘‘
مدرسہ علمیہ نرجس(ع)
گہوارۂ بی بی معصومہ (س)
مختصر مدتی کورس
علماء کے تأثرات
تصاویر
لوکیشن
متعلقہ لنکس

تعارف

۲۰؍جمادی الثانی ۱۴۱۵ھ(۲۴؍نومبر ۱۹۹۴ء)کو مربیٔ ملت حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج مولانا سید حیدر مہدی زیدی طاب ثراہ نے ہندوستان کے علمی شہر لکھنؤ میں قوم کی بچیوں کو اعلیٰ دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے مدرسہ جامعۃ الزہراء(س) کے نام سے پہلی درس گاہ اپنی شریک حیات فاضلہ جلیلہ خواہر سیدہ رباب زیدی صاحبہ کے ساتھ قائم کی ۔

 

اغراض و مقاصد

 

یوں تو شہر لکھنؤ محبان محمدؐ و آل محمدؐ کا مرکز رہا ہے مگر صنف نسواں اعلیٰ دینی تعلیم سے محروم تھی جس کی محرومیت کا احساس دیندار و با شعور طبقہ شدت سے کر رہا تھا۔

  • معاشرہ سازی جو مرسلین و مصلحین کی دیرینہ آرزو رہی ہے اور معاشرہ اور معاشرہ کی اکائیاں افراد کی صورت میں آغوش مادر سے نکل کر معاشرہ کو تشکیل دیتی ہیں۔ اب اس صورت میں اگر آغوش ہی آلودہ ہوا اور ماں ہی دینی تعلیم سے محروم ہو تو وہ افراد کہاں سے آئیں گے جو معاشرہ سازی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اور قوم کو اس محرومی سے نکالنے کے لئے مربی ملت سید حیدر مہدی طاب ثراہ اس کا راہ حل نکالنے کے لئے آگے بڑھے آپ کا ماننا تھا کہ ’’ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جب کہ عورت کی تعلیم معاشرہ کی تعلیم ہے۔‘‘

اس لئے آپ نے جامعۃ الزہراء کی بنیاد رکھی تا کہ معاشرہ ساز بچیوں کو روح اسلام سے آشنا کیا جا سکے جو معاشرہ سازی کی ذمہ داریاں ادا کریں۔

  • صنف نسواں کی اعلیٰ دینی تعلیم و تربیت
  • تعلیم اور ثقافت اہل بیت کی نشر و اشاعت
  • اسلام کے نام پر معاشرہ بالخصوص خواتین کے درمیان پھیلی ہوئی غیر شرعی رسم ورواج اور خرافات کا خاتمہ

عمارت و سہولیات

 

بحمد اللہ مدرسہ کی بلڈنگ تین طبقوں پر مشتمل ہے۔ جس میں پہلے طبقہ پر دو بڑے اجتماعی ہال، کتاب خانہ اور ڈائننگ ہال موجود ہیں۔ دوسرے طبقہ پر طالبات کی شب و روز کی رہائش کے لئے تمام سہولیات سے آراستہ کمرے (بیڈ، ائر کولر، شخصی الماریاں وغیرہ) ، وضو خانہ ، واٹر کولر، ۲۴ گھنٹہ بجلی اور پانی کا انتظام بھی موجود ہے۔

دارالاقامہ میں طالبات کی نظارت و تربیت کے لئے شب و روز مسئول خواب گاہ(Warden) بھی ساتھ رہتی ہیں۔ تیسرا طبقہ درس گاہ سے مخصوص ہے جس میں کلاس روم، دار القرآن بزم فضہ، دفاتر، بیت الصلوٰۃ، سلائی اور ہنری و ثقافتی کاموں کے لئے کمرہ موجود ہیں۔

اسی طرح خواہران کے مباحثہ اور مطالعہ کے لئے الگ الگ کمروں کا انتظام ہے۔ خواہران کی ابتدائی اور فوری ضروریات کے لئے فروش گاہ (دوکان) بھی موجود ہے۔

 

کتابخانہ

 

طالبات کے مطالعہ اور ان کے تحقیقی کاموں میں آسانی فراہم کرنے کے لئے مدرسہ کے اندر دو کتاب خانہ موجود ہیں، ایک ’’ کتابخانہ مربیٔ ملت‘‘ کے نام سے ہے جس میں مختلف موضوعات پر عربی، فارسی ، اردو ، انگریزی، ہندی زبانوں مین درسی اور غیر درسی کتابیں دستیاب ہیں۔ ’’ کتاب خانہ مربیٔ ملت‘‘ تقریباً سترہ ہزار کتابوں پر مشتمل ہے جس سے طالبات کے علاوہ اساتذہ بھی استفادہ کرتے ہیں۔

اور دوسرا کتاب خانہ بنام ’’ کتاب خانۂ فخر النساء‘‘ ہے جس میں سات ہزار کے قریب نوارد کتابیں موجود ہیں۔

مزید دیکھیں

تعلیمی و تربیتی نظام

تعلیمی نظام

 

دور حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر وہ نظام تیار کیا گیا جو میدان عمل میں بھی کارساز ہواور حوزۂ علمیہ قم و نجف کے اعلیٰ دینی تعلیمی نظام سے بھی ہماہنگ ہو۔ لہٰذا فقہ ، اصول ، کلام ، تفسیر، منطق، فلسفہ، اخلاق ، تاریخ و ادبیات عرب جیسے اہم موضوعات پر مشتمل نصاب تیار کیاگیا۔

یہ تعلیمی نظام پانچ سالوں پر مشتمل ہے اور ہر سال کے دو سمسٹر ہیں اس طرح جامعۃ الزہراء کا تعلیمی نظام کل دس سمسٹر ہیں جنہیں تین الگ الگ مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا مرحلہ:                دورۂ تمہیدی (ایک سال)

دوسرا مرحلہ:              دورۂ کاروانی       (دوسال)

تیسرامرحلہ:               دورۂ کارشناسی(دوسال)

طالبات کو علمی اعتبار سے قوی بنانے اور ان کی تدریسی اور تحریری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے مباحثہ اور درس نویسی کو نظام میں لازم قرار دیا گیا ہے۔ بعض موضوعات پر طالبات کے تحقیقی مقالے اور مضامین بھی لازم ہیں۔

اب تک ۱۴ طالبات کی تحقیقات کو حوزۂ علمیہ قم کی بین الاقوامی یونیورسٹی جامعۃ المصطفی العالمیہ سے اعلیٰ درجہ کے ساتھ کامیابی مل چکی ہے۔

 

تربیتی نظام

 

خواہران کی معنوی اور اخلاقی تربیت کے لئے ان کے شب و روز کے اوقات میں ان کے لئے عبادی و معنوی فضا ہموار کی گئی ہے جس میں اہم ترین نماز پنجگانہ کی باجماعت ادائیگی ، تعقیبات، ایام ہفتہ کی مخصوص دعائیں جیسے دعائے کمیل،دعائے توسل ، دعائے ندبہ، سمات اور زیارت عاشورہ وغیرہ خاص اہتمام کے ساتھ برپا ہوتی ہے۔

روز عرفہ ۱۵؍رجب المرجب جیسے مخصوص ایام میں، اعمال روز عرفہ اور اعمال اُم داؤد کے لئے خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔جس میں شہر کی خواتین بھی کثیر تعداد میں شرکت کرتی ہیں اور جامعۃ الزہراء کی مخصوص روحانی فضا سے بہرہ مند ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ ہر ہفتہ مختلف اساتذہ کے ذریعہ درس اخلاق بھی دیا جاتا ہے اور گھریلو اور سماجی تربیت کے پیش نظر معصومین کی ولادت و شہادت کی مناسبت سے برپا ہونے والی مجالس و محافل کا انتظام خود طالبات کرتی ہیں جس میں خطابت، تقاریر اور نوحہ خوانی وغیرہ کی ذمہ داریاں بھی خود طالبات ادا کرتی ہیں۔

نیز طالبات کی ہنری صلاحیتوں کو ابھارنے اور ان سے آراستہ کرنے کے لئے سلائی، کڑھائی وغیرہ کی کلاسیں بھی باضابطہ طور پر منعقد کی جاتی ہیں۔

اسی طرح سماجی تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مدرسہ کے داخلی امور کی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں بھی بچیوں کے درمیان تقسیم کر دی جاتی ہیں تاکہ ان میں کام کرنے کا طور طریقہ اور سلیقہ پیدا ہو سکے اور طالبات اپنی تبلیغی ذمہ داریاں اور فرائض زندگی کو بطور احسن انجام دے سکیں۔

 

فارغ التحصیل طالبات

 

مدرسہ کی تاسیس کی ابتداء سے ہی خواہران کی تعلیم و تربیت کا باقاعدہ طور سے سلسلہ شروع کرنے کی غرض سے پہلے سے طے شدہ شرائط کے مطابق ہندوستان کے مختلف شہروں سے طالبات کا داخلہ لیا گیا اور سلسلہ تعلیم و تربیت شروع ہو گیا اور بحمد اللہ سن ۲۰۰۰ء میں پہلا گروہ کامیابی سے اپنا تعلیمی وتربیتی سفر مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوا۔

اور اسی طرح تقریباً ۱۵ سے ۲۰ خواہران ہر سال جامعہ سے فارغ التحصیل ہوتی ہیں جن میں سے بعض اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کے لئے بیروں ملک ایران و عراق جا چکی ہیں اور باقی اپنے ملک اور بیرون ملک (کویت، عمان اور مختلف افریقی ممالک) میں اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو زبان و قلم سے انجام دے رہی ہیں اور بعض ہندوستان کے حوزات میں مصروف تدریس ہیں۔

مزید دیکھیں

دار القرآن ’’ بزم فضّہ‘‘

قرآن کے مفاہیم سے آگاہی اور اس سے عملی وابستگی کی خاطر جامعۃ الزہراء(س) میں شعبۂ ’’دار القرآن بزم فضّہ‘‘ قائم کیا گیا جس میں تجوید ، ترتیل، مفاہیم قرآنی ، تفسیر ، تواشیح اور مناجات وغیرہ کی عملی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس حصہ کی نمایاں خدمت تربیت حافظات قرآن کریم ہے۔ جس کے نتیجے میں الحمد للہ اب تک سات طالبات حفظ کل قرآن کر چکی ہیں جب کہ دوسری بعض طالبات ۱۵ جز کی حافظہ ہیں۔

مزید دیکھیں

مدرسہ علمیہ نرجس(ع)

شہر لکھنؤ اور بیرون شہر سے کالج کی تعلیم یافتہ طالبات کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے ۲۰۰۱ء میں جامعۃ الزہراء(س) کا ایک اور شعبہ ’’ مدرسہ علمیہ نرجس‘‘ قائم کیا گیا جو کہ مدرسہ کا غیر اقامتی بخش ہے تاکہ قوم کی بچیاں کم وقت میں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت سے بھی آراستہ ہوں اور معاشرہ سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ شعبہ چار سالہ کورس پر مشتمل ہے جس میں فقہ، کلام، تاریخ، اخلاق اور قرآن و حدیث سے مربوط دیگر موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔

مزید دیکھیں

گہوارۂ بی بی معصومہ (س)

’’بچپن میں علم پتھر پر نقش کے مانند ہے۔‘‘ اسی کے پیش نظر چھوٹی بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے یکم ذیقعدہ ۱۴۳۶ھ روز ولایت کریمہ اہل بیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا’’ گہوارۂ معصومہ(س)‘‘ کے نام سے مدرسہ کے ایک اور شعبہ کا قیام عمل میں آیا جس میں چھوٹی بچیوں کو قرآن، دینیات وغیرہ کی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور جس میں ۶۵ چھوٹی بچیاں زیر تعلیم ہیں۔

مزید دیکھیں

مختصر مدتی کورس

اسی طرح ہر سال اسکول اور کالج میں پڑھنے والی اسٹوڈنٹس اور خواتین کے لئے گرمیوں کی تعطیلات میں اور ماہِ مبارک رمضان کی مناسبت سے مختصر مدتی کورس (Camp) کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ اب تک خود جامعہ کے اندر ۲۳ کامیاب کیمپ کا انعقاد کیا جا چکا ہے جس میں اسٹوڈنٹس ذوق و شوق کے ساتھ شرکت کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ ماہِ رمضان المبارک کی تعطیلات میں گھر جانے والی خواہران اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی تربیتی و عبادی کیمپ کا اہتمام کرتی ہے۔

مزید دیکھیں

علماء کے تأثرات

حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج آقای مہدی مہدوی پور دامت برکاتہ

نمائندہ ولی فقیہ، ہند

’’ خداوند عالم بانیٔ جامعۃ الزہراء(س) مرحوم سید حیدر مہدی زیدی کی روح کو شاد فرمائے اور پروردگاراساتذہ محترم اور طلاب معزز کی عالمانہ، عابدانہ و خالصانہ محنت و کوشش کا بے شمار اجر بھی ان مرحوم کو عنایت فرمائے۔ انصاف یہ ہے کہ آج جامعۃ الزہراء (س) تمام حوزات علمیہ اور مراکز دینی کے درمیان ایک نگینہ کی طرح شمک رہا ہے۔ مرحوم اورخانم رباب زیدی صاحبہ کی تلاش وکوشش سے شیعوں کے لئے ایک قابل فخر مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔اس حوزہ کی تربیت یافتہ طالبات پورے ہندوستان مین مذہب حقہ کی تبلیغ و ترویج میں مشغول ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اس حوزہ کی فارغ التحصیل طالبات مختلف شہروں میں خواتین کے لئے ہدایت کا چراغ ہیں۔‘‘

 

آیۃ اللہ آقای محمد حسن اختری دامت برکاتہ

جنرل سکریٹری مجمع جہانی اہل بیت (ع)

’’ ہم نے مدرسہ جامعۃ الزہراء(س) کو دیکھا ۔ یہ مدرسہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کا ایک روشن اور نمایاں مرکز ہے کہ جس نے بہت ہی کامیاب اور تاثیر گذار مبلغات کی تربیت کی ہے۔‘‘

 

حجۃ الاسلام والمسلمین آقای غلام رضا مہدوی دامت برکاتہ

نمائندہ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، ہند

’’ بے شک جامعۃ الزہراء کی پیشانی پر آقای حیدر مہدی کا نام نامی ہمیشہ باقی رہے گا۔‘‘

 

 

مزید دیکھیں
تصاویر
جامعة الزهرا س
.
جامعة الزهرا س
زوم
ڈاؤن لوڈ
شیئر کریں
جامعة الزهرا س
لوکیشن
متعلقہ لنکس
دیگر حوزات علمیه
کامنٹ
اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024