براہ کرم پہلے مطلوبہ لفظ درج کریں
سرچ
کی طرف سے تلاش کریں :
علماء کا نام
حوزات علمیہ
خبریں
ویڈیو
15 شَوّال 1445
ulamaehin.in website logo
مولانا محمد مجتبی حسین صاحب ره کی خبر رحلت
26 Dec 2021 - 22:22
413
0

مولانا محمد مجتبی حسین صاحب ره کی خبر رحلت

مولانا محمد مجتبی حسین صاحب ره ابن مولانا غلام مرتضی ره کا اصلی وطن گھوسی تھا اور مرحوم جامعہ ناظمیہ کے استاد تھے۔

شیئر کریں
کامنٹ

 

جلیل القدر استاد مولانا محمد مجتبیٰ حسین طاب ثراہ 

 

تحریر: مولانا ڈاکٹر شہوار حسین نقوی

 

جامعہ ناظمیہ کی جامع معقول و منقول قابل فخر شخصیت جنہیں مرحوم لکھتےہوئے قلم کانپ رہا ہے جو بیک وقت مختلف علوم و فنونں میں مہارت رکھتے تھے۔ کم گو کم سخن حلیم وبردبار بس مطلب بھر بات کرکے اپنےکام میں مصروف رہنےوالی ذات جن کا اصلی وطن گھوسی تھا۔ جہاں آپ نے بروز جمعہ ۱۹۴۹ء؁ میں سفر حیات کا آغاز کیا۔ والد ماجد مولانا غلام مرتضیٰ صاحب جامعہ ایمانیہ بنارس سے فارغ تھے اور وہیں تدریس بھی کرتے تھے۔ آپ کے بڑے ابّا مولانا غفور حسین صاحب نے جامعہ ناظمیہ لکھنؤ سے ضمیمہ ممتاز الافاضل کیا تھا اور تحصیل کے دوران ہی ان کی وفات ہوگئی تھی۔ آپ کے دادا اس فرزند کی وفات سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ مگر علم دین کے شوق کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنے چھوٹے فرزند مولانا غلام مرتضی صاحب کو علم دین حاصل کرنے کےلئے آمادہ کیا اور ان کا داخلہ جامعہ ایمانیہ بنارس میں  کرایا۔ جب ظفر الملت مولانا ظفر الحسن صاحب طاب ثراہ نجف اشرف سے تعلیم حاصل کرکے واپس تشریف لائے تو آپ کو مدرسہ باب العلم مبارک پور کا پرنسپل منتخب کیا گیا۔ مولانا ظفر الحسن صاحب قبلہ نے مولانا غلام مرتضیٰ صاحب سے فرمایا کہ آپ اس علاقے کے ہیں لہٰذا آپ باب العلم چلے جائیں اور وہاں خدمت انجام دیجئے۔ چنانچہ آپ مولاناظفر الحسن صاحب کے حکم پر مبارک پور تشریف لے گئے اور خدمت دین میں مصروف ہوئے۔ اس سلسلےمیں آپ نے مدرسہ حسینیہ قائم کیا استاد محترم مولانامجتبیٰ حسین صاحب نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اس کے بعد والد ماجد نے آپ کا داخلہ جامعہ ایمانیہ بنارس میں ںکرایا جہاں آپ نےمولانا ظفر الحسن صاحب ، مولانا احمد علی صاحب ، مولانا محمد فضل صاحب جیسے اساتذہ سے کسب علم کیا پھر لکھنؤ روانہ ہوئے جہاں آپ نے جامعہ ناظمیہ میں داخلہ لیا اس وقت سرکار مفتی اعظم احمد علی صاحب کی مسند درس بچھی ہوئی تھی طلاب بڑی تعداد میں جوق در جوق آرہے تھے اور اس منبع فیوض سے فیضیاب ہورہے تھے۔ مدرسہ جید اکابرین سے چھلک رہا تھا لہٰذا ااآپ نے اس زرین دور سے فائدہ اٹھایا اور مولانا حکیم محمد اطہر صاحب ،مولانا مرتضیٰ نقوی صاحب ، مولانا رسول احمد صاحب، مولانا محمد حسنین نجفی صاحب، منولانا سید محمد شاکر صاحب طاب ثراہم جیسے اکابرین سے کسب فیض کرکے نحو، صرف، منطق، فلسفہ، فقہ اور اصول میں مہارت حاصل کی ۔ مولانا حکیم اطہر صاحب سے علم طب پڑھ کر کافی حد تک علم طب کی معلومات میں اضافہ کیا آپ نے دسمبر ۱۹۷۱ء؁ میں ممتاز الافاضل کی سند حاصل کی اور یکم جنوری ۱۹۷۲ء؁ سے جامعہ ناظمیہ میں تدریس کرنےلگے آپ نے اس ذمہ داری کو اس خوبی سے انجام دیا کہ جلد ہی آپ کا شمار محنتی اور جد اساتذہ میں ہونے لگا آپ کا مخصوص انداز تدریس تھا آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ مطالب کو آسان کرکے طلاب کے سامنے پیش کیا جائے پہلے آپ درس کا خلاصہ بیان کرتے تھے پھر مطالب کو متن سے منطبق کراتے تھے اس طرح سخت ترین مطالب ذہن نشین ہوجاتے تھے راقم کو بھی آپ سےشرف تلمذ حاصل رہا۔

آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست ہے جو مختلف مقامات پر خدمات دین انجام دینے میں مصروف ہیں۔ آپ کے ذمہ تدریس کے علاوہ مدرسہ کا شعبہ حسابات بھی تھا جسے آپ انتہائی محنت سے منظم و مرتب رکھتے تھے اکثر آڈٹ کے زمانےمیں ہم نے دیکھا کہ دیر رات تک حسابات کو درست کرنےمیں مصروف رہتے اگر لائٹ نہیں ہوئی تو شمع کی روشن میں اس ذمہ داری کو پورا کرتے تھے۔ مدرسہ کو ارتقائی مراحل تک پہونچانےمیں آپ عمید جامعہ ناظمیہ سرکار امیر العلماء مولانا سید حمید الحسن صاحب دامت برکاتہ کے دست راست تھے اور ہمہ وقت مدرسہ کی ترقی کے لئے کوشاں رہے ۔ ناظمیہ کے سلسلےمیں آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں سرکار امیر العلماء مدظلہ نے جو بھی ذمہ داری سپرد کی اسے انتہائی امانت داری کے ساتھ انجام دیا۔ 

ان تمام مصروفیات کے باوجود مجالس کےلئے بھی آپ نے وقف نکالا ممبئی، ۔۔ پونہ مہوا، بھاؤ نگر، احمد آباد، میسور، جموں وغیرہ میں خطابت کے جوہر دکھائے بیان عالمانہ اور سلجھا ہوا ہوتا تھا۔ جو سامعین کے دل میں اتر جاتا تھا۔ 

تصنیف و تالیف کا بھی شوق رہا مگر مشغولیت کے سبب زیادہ کام انجام نہ دیا جاسکا مگر پھر بھی حضرت امیر المومنین علیؑ ابن ابی طالب علیہ السلام کی حیات و مناقب پر مشتمل کتاب ’’ نعمت عظمیٰ ‘‘ تصنیف کی اس کے علاوہ آیت اللہ سید محمد شیرازی کی توضیح المسائل کا ترجمہ کیا مگر یہ دونوں کتابیں زیور طبع سے آراستہ نہ ہوسکیں ۔ کچھ ماہ قبل سے علیل چل رہےتھے۔ مگر اب صحت یاب ہوگئے تھے مگر اجل کے ہاتھوں نے ۲۱؍ جمادی الاول ۱۴۴۳ھ؁ ۲۶؍ دسمبر ۲۰۲۱ء؁ بروز اتوار شفیق استاد کو ہم سے چھین لیا آپ کی رحلت سے علمی دنیا میں اداسی سی محسوس کی جارہی ہے خداوند عالم آپ کو جوار معصومین میں جگہ عنایت فرمائے۔

سوشل میڈیا پر شیئر
ذریعہ :
ٹیگز :

دوسری خبریں

تمام خبریں

کامنٹ

اپنا کامنٹ نیچے باکس میں لکھیں
بھیجیں
نئے اخبار سے جلد مطلع ہونے کے لئے یہاں ممبر بنیں
سینڈ
براہ کرم پہلے اپنا ای میل درج کریں
ایک درست ای میل درج کریں
ای میل رجسٹر کرنے میں خرابی!
آپ کا ای میل پہلے ہی رجسٹر ہو چکا ہے!
آپ کا ای میل کامیابی کے ساتھ محفوظ ہو گیا ہے
ulamaehin.in website logo
ULAMAEHIND
علماۓ ہند ویب سائٹ، جو ادارہ مہدی مشن (MAHDI MISSION) کی فعالیتوں میں سے ایک ہے، علماۓ کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کو پیش کرتے ہوۓ، ان حضرات کی خدمات کو متعارف کرواتی ہے۔ نیز، اس سائٹ کا ایک حصہ ہندوستانی مدارس اور کتب خانوں، علماء کی قبور کو متعارف کروانے سے مخصوص ہے۔
Copy Rights 2024